حضرت سعید ابن المُسَیِّب رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا ارشاد
اِرْضِ بِالیَسِیْرِ مِنَ الدُّنَْیَا مَعَ سَلَامَۃِ دِیْنِکَ کَمَا رَضِیَ قَوْمٌ بِکَثِیْرِھَا مَعَ ذِھَابِ دِیْنِھِمْ۔ (1)(کشف المحجوب)
ترجمہ: اے مسلمان ! اپنی اس تھوڑی سی دنیا پر جو تجھے دین کی سلامتی کے ساتھ حاصل ہے اس پر قناعت کر (راضی رہ) جس طرح عام لوگ اپنا دین کھو کر مال کی زیادتی پر خوش ہوتے ہیں ۔
آیا تم دیناروں کے لیے روتے ہو؟
حضرت علی بن فضیل رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کعبۃ اللہ کے طواف میں مشغول تھے ایک چور نے آپ کے دینار چُرالیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ رونے لگے آپ کے والد نے پوچھا: آیا تم دیناروں کے لیے روتے ہو؟انہوں نے جواب دیا: نہیں بلکہ میں تو اس بیچارے کے اس حال پر روتا ہوں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے اس حرکت کے بارے میں باز پُرس کرے گا تو اس سے کچھ جواب نہ بن پڑے گا۔(2)(احیاء العلوم)
اِس کے دانت توڑ دیئے جادیئےیں
حضرت سید محمد راشد پیر سائیں روضے دھنی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ارشاد فرمایاکہ سلطان العارفین شیخ بایزید بسطامی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ایک ایسے صحرا میں چلے گئے جہاں کسی فرد بشر کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من التابعین، ص۹۳ و الزھد الکبیر للبیہقی، فصل فی ترک الدنیا۔۔۔إلخ، ص۱۴۲، الحدیث۲۸۲
2…احیاء العلوم، کتاب التوحید والتوکل، بیان آداب المتوکلین۔۔۔إلخ، ۴/۳۵۰