حدیث : لَیْسَ الْغِنٰی عَنْ کَثْرَۃِ الْعَرَضِ وَلٰکِنَّ الْغِنٰی غِنَی النَّفْسِ۔
تونگری کثرتِ مال و اسباب سے نہیں لیکن تونگری دل کی غَنا سے ہے۔(1)(بخاری، مسلم)
بزرگی بہ عقل ست نہ بہ سال تو نگری بہ دل ست نہ بہ مال (2)
(شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
بزرگی عقل سے ہے نہ کہ عمر کے لحاظ سے، تونگری دل سے ہے نہ کہ مال و دولت سے۔
ہم نے دنیا کو طلاق دے رکھی ہے
سلطان محمود غزنوی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ حضرت ابوالحسن خرقانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت نے سلطان کو چند نصیحتیں کیں اور اس کے لیے دعا فرمائی سلطان نے دس طبق زرو جواہر سے بھرے ہوئے حضرت کی خدمت میں نذر کیے حضرت انہیں دیکھ کر مسکراددیئے خدام سے فرمایا: مہمان کے لیے کھانا لاؤ، دستر خوان پر چند موٹی موٹی خشک روٹیاں رکھ دی گئیں سلطان نے پاسِ اَدَب سے ایک لقمہ توڑ کر منہ میں رکھا تو نگل نہ سکا لقمہ حلق میں اٹک گیا۔ حضرت نے فرمایا: اے محمود! جس طرح یہ روٹی تیرے حلق میں اٹکتی ہے اسی طرح دنیا کا مال ہمارے حلق میں اٹکتا ہے ہم نے دنیا اور مال و دولت کو طلاق دے رکھی ہے یہ زروجواہراٹھا کر لے جاؤ۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب الرقاق، باب الغنی النفس، ۴/۲۳۳، الحدیث: ۶۴۴۶ و مسلم ، کتاب الزکاۃ، باب لیس الغنی عن کثرۃ العرض، ص۵۲۲، الحدیث:۱۰۵۱
2…گلستان سعدی، باب اول در سیرت بادشاھان، حکایت نمبر ۵، ص۲۰
3…تذکرۃ الاولیاء، ذکر شیخ ابوالحسن خرقانی، الجزء الثانی، ص ۱۷۶