بندوں کی ضروریات کا کفیل ہے جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے غیر کا محتاج نہیں ر ہنے دیتا اور جو شخص مال و دولت جمع کرتا ہے اس میں پانچ بدخصلتیں پیدا ہو جاتی ہیں :
{1}طُولِ اَمَل یعنی لمبی امیدیں باندھنا {2} شدتِ حرص
{3} بخل {4}آخرت فراموشی {5}قلت پرہیزگاری
(احیاء العلوم)
تونگری دل سے ہے نہ کہ مال سے
حضرت جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں ایک امیر حاضر ہوا اس نے آپ کی خدمت میں پانچ سو اشرفیاں پیش کیں اور نیاز مندی کے ساتھ عرض کی: حضور! یہ حقیر نذرانہ قبول فرمائیں ، آپ مسکرائے اور فرمایا : تمہارے پاس ان اشرفیوں کے علاوہ اور بھی کچھ مال ہے؟وہ بولا: آپ کی دعا سے اور اللہ کے فضل و کرم سے بہت کچھ ہے، فرمایا : کیا تمہاری یہ خواہش ہے کہ تمہارے مال و دولت میں مزید اضافہ ہوجائے؟ عرض کی: حضور ! یہ خواہش تو مجھ کو ہر وقت رہتی ہے اور اس خواہش کے تحت کاروبار میں بڑی محنت و مَشَقَّت برداشت کرتا ہوں ، آ پ نے فرمایا: تو یہ اشرفیاں بھی تم ہی رکھ لو کہ مجھ سے زیادہ تم محتاج اور مستحق بھی ہو اور مجھے باوجود اس کے کہ میرے پاس کچھ بھی مال و دولت موجود نہیں بفَضْلِہٖ تَعَالٰی مجھے اس کی ذرا بھی طلب و خواہش نہیں ہے۔(1) (تذکرۃ الاولیاء)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تذکرۃ الاولیاء، الجزء الثانی، ص۱۴