Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
53 - 191
شاہِ سنجر کو غوثِ اَعظم کا جواب
         حضرت غوث الاعظم سیدنا محی الدین شیخ عبد القادر جیلانی  قَدَّ سَنَا اللہُ بِاَسْرَارِہِ الْعَزِیْز کی خدمت میں   شاہِ سنجر والی ملک نیمروز نے عریضہ بھیجا کہ میں   ملک کا کچھ علاقہ بطورِ جاگیر آپ کو دینا چاہتا ہوں  تا کہ آپ بھی میری طرح عیش و آرام کی زندگی بسر کریں  غوثِ اعظم نے اس  کے  جوا ب میں   یہ رباعی لکھ بھیجی:
چوں  چترِ سنجری رخِ بختم سیاہ باد
در دل اگر بود ہوسِ ملکِ سنجرم
زانگہ کہ یافتم خبر از ملکِ نیم شب
من ملکِ نیمروز بہ یک جو نمی خرم
	شاہ سنجر  کے  کالے رنگ  کے  تاج کی طرح میرا بخت سیاہ ہوجائے اگر میرے دل میں   ملک سنجر کی کچھ بھی ہوس ہواس لیے کہ جب مجھے دولت نیم شب (شب بیداری ویادِ حق) کی سلطنت حاصل ہے سلطنت نیمروز کی قیمت میری نظر میں   دانۂ جو  کے  برابر بھی نہیں  ۔ (1)(اخبار الاخیار) 
 پانچ بدخصلتیں 
	حضرت سفیان ثور ی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں   ایک شخض حاضر ہوا اور عرض کی: اگر آپ اجازت دیں  تو میں   اپنی جاءز آمدنی میں   سے کچھ روپیہ پیسہ پس انداز کر کے  کچھ مال جمع کرلوں  تاکہ بوقت ضرور ت مجھے کسی کی احتیاج نہ رہے، فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اخبار الاخیار، ص۲۰۴