Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
52 - 191
ہوگیا اور ہم کچھ روز بھو کے  رہ گئے حتی کہ ہم شہر کو فہ میں   داخل  ہوئے ے، حضرت نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: مجھے افسوس ہوتا ہے کہ تجھ کو بھوک لگ رہی ہے۔ میں   نے عرض کی: حضور بجا ارشاد فرماتے ہیں   ، فرمایا : قلم دوات اور کاغذ لاؤ۔ میں   نے قلم دوات اور کاغذ پیش خدمت کردیا، آپ نے یہ رقعہ لکھا:ــبِسْمِ اللہِ الرَّّحْمٰنِ الرَّحِیْمِہر حال میں   تو ہی مقصود ہے اور ہر بات سے تو ہی مطلوب۔ اور چند اشعار لکھے جن کا منظوم ترجمہ یوں  ہے:
حامد و شاکر ہوں  اور ذاکر خدا		بھوکا اور پیاسا ہوں  اور ننگا جدا
وصف چھ ہیں    تین کا ضامن ہوں  میں	التجا ہے تو ہو ضامن تین کا
مدح میری غیر کو ہے جلتی آگ		آگ میں   گرنے سے تو مجھ کو بچا
	حضرت نے مجھے فرمایا: باہر جااللہ  کے  سوا کسی کا خیال دل میں   نہ آنے دینا اور جو پہلا شخص تیرے سامنے آئیہ رُقعہ ا س کو دے دینا۔میں   رقعہ لے کر باہر نکلا پہلا شخص جو مجھ کو ملا وہ خچر پر سوار تھا میں   نے رقعہ اس  کے  حوالے کردیا اس شخص نے رقعہ پڑھا اور پڑھتے ہی رونے لگا۔ پھر پوچھا: جس نے یہ رقعہ لکھا ہے وہ کہا ں ہے؟میں   نے بتایا : وہ فلاں  مسجد میں   ہے۔ اس نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں   چھ سو دینار تھے اور آگے بڑھ گیا میں   نے لوگو ں  سے پوچھا: یہ کون شخص ہے؟ انہوں  نے کہا: یہ ایک نصرانی ہے۔
	میں   نے حضرت کی خدمت میں   حاضر ہو کر ماجرا عرض کیا تو فرمایا: ابھی ان دیناروں  کو ہاتھ نہ لگانا وہ ابھی آیا ہی چاہتا ہے۔جب ایک گھڑی گزری وہ نصرانی آیا۔ حضرت  کے  سر کو بوسہ دیا اور لَا اِ    لٰـہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔ (1)(احیاء العلوم) 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء العلوم، کتاب التوحید والتوکل، بیان فضیلۃ التوکل ، ۴/۳۳۴