توحید ناقص
ایک مسافر مسجد میں آیا، وہ ہروقت تلاوتِ قرآن ، نوافل اور ذکر و فکر میں مشغول رہتا تھا، امامِ مسجد نے اس سے کہا: تم کوئی محنت مزدوری کر کے کچھ کما بھی لیا کروتو اچھا ہو، عابد نے کوئی جواب نہ دیا، تین روز تک امام مسجد اسے یہی کہتا رہا ، چوتھے روز جب اس نے یہی بات کہی تو عابد نے کہا:میاں صاحب ! مسجد کے قریب ایک یہودی رہتا ہے اس نے وعدہ کرلیا ہے کہ ہر روز دو روٹی مجھ کو پہنچاتا رہے گا۔امامِ مسجد بولا: اگر وہ اپنے وعدے میں سچا رہے تو تمہارا مسجد میں رہناٹھیک ہے۔ عابد نے برہم ہو کر جواب دیا: کیا خوب! تمہارا ایمان اللہ کے وعدے پر تو قائم نہ رہا، یہودی کے وعدے پر تم نے اعتماد کرلیا، ایسی ناقص توحید رکھتے ہوئے ے تم لوگوں کی امامت نہ کرو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔(1)
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے(2)
(علامہ اقبال)
پراَسرا ررقعہ
حضرت ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے خادمِ خاص حضرت حذیفہ مرعشی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے لوگوں نے کہا: تم نے حضرت کی کوئی عجیب بات دیکھی ہو تو بیان کرو۔ حضرت حذیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے کہا: ایک دفعہ میں حضرت کے ہمراہ مکہ کے سفر میں تھا زادِ راہ ختم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… احیاء العلوم، کتاب التوحید والتوکل، بیان فضیلۃ التوکل، ۴/۳۳۴
2…کلیات اقبال، بال جبریل، حصہ دوم، ص۴۴