امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے فرمایا: چار۔منصور خاتون کی طرف مخاطب ہوا کہ سنتی ہو؟ پردہ سے آواز آئی : ہاں ! سُنا۔ امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے منصور کو مخاطب فرماتے ہوئے ے کہا: مگر یہ اجازت اس شخص کے لیے ہے جو عدل پر قادر ہو ورنہ ایک سے زیادہ نکاح کرنا اچھا نہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے:
فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً (1)
منصور خاموش ہوگیا۔ امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ گھر آئے تو ایک خادم پچاس ہزار درہم کے توڑے لیے حاضر خدمت ہوا اور بولا: حرہ خاتون نے آپ کی خدمت میں نذر بھیجی ہے اور کہا ہے کہ آپ کی کنیز آپ کو سلام عرض کرتی ہے اور آپ کی حق گوئی کی مشکور ہے۔ امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے روپے واپس کرددیئے ے اور فرمایا: خاتون سے کہو کہ میں نے جو کچھ کہا ہے یہ میرا فرض منصبی تھا کسی غرض کے تحت نہیں لہٰذا شکریہ کی ضرورت نہیں ۔(2) (معجم، موفق)
توکل کی نادر مثال
حضرت سعید بن جبیر رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں : ایک دفعہ مجھے بچھو نے ڈنگ مار دیا ، میری ماں ایک جھاڑنے والے کو بُلا لائی ، میں نے جھڑوانے سے انکار کردیا، میری ماں نے کہا: بیٹا !تجھے اللہ کی قسم تو جھڑوالے، میں نے ماں کے حکم کی تعمیل تو کرلی مگر اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان:پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو۔(پ۴،النساء:۳)
2…مناقب الامام الاعظم، منازعۃ المنصور زوجتہ ومحاکمۃ الامام فیہ،الجزء الاول، ص۲۳۰