خدمت کرنا چاہتا ہوں آپکو کو ئی حاجت ہو تو فرمائیے؟ فرمایا :ہاں ! ایک حاجت ہے۔ اس نے پوچھا:وہ کیا؟ فرمایا:یہ کہ تم دوبارہ میرے پاس کبھی نہ آؤ۔ (1)(کیمیائے سعادت)
کمالِ اِستغنا
ابن ہبیرہ گورنرکوفہ نے ایک دفعہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہسے بہ لجاجت کہا: آپ گاہے گاہے تشریف لے آیا کریں تو مجھ پر احسان ہوگا۔امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا: میں تم سے مل کر کیا کروں ،؟ مہربانی سے پیش آؤگے تو خوف ہے کہ تمہارے دام میں آجاؤں گا، عتاب کرو گے تو میری ذلت ہے، تمہارے پاس جو زَر و مال ہے اس کی مجھے کچھ حاجت نہیں ، میرے پاس جو دولت ہے ، اسے کوئی شخص چھین نہیں سکتا، ابن ہبیرہ یہ سن کر دم بخود رہ گیا۔(معجم موفق)
یہ میرا فرضِ منصبی تھا
خلیفہ منصوراوراس کی بیوی حرہ خاتون میں کچھ شکر رنجی ہوگئ،خاتون کو شکایت تھی کہ خلیفہ اس کے حق میں عدل سے کام نہیں لیتا، خلیفہ نے کہا: تم کسی کو ُمنْصِف قرار دو، خاتون نے امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا نام لیا، خلیفہ نے اسی وقت امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکو طلب کرلیا، خاتون پردہ کے قریب بیٹھی تاکہ امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا فیصلہ اپنے کانوں سے سن لے، منصور نے امام اعظم سے پوچھا: ازروئے شریعت ایک مرد کتنے نکاح کرسکتا ہے؟
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء العلوم، کتاب آداب العزلۃ ،۲/۲۷۹