خالق و مَالک دنیا سے بھی نہیں مانگی پھر میں تم سے کیسے مانگوں جب کہ تم نہ اس کے خالق ہو اور نہ مالک۔ہشام لاجواب ہو کر رہ گیا۔(1)
حضرت ربیع رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا گھوڑا
حضرت رَبیع بن خَیْثَم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے اپنا قیمتی گھوڑا جس کی قیمت بیس ہزار درہم تھی باندھا اور نماز پڑھنے لگے، ایک چور آیا اور گھوڑا کھول کر لے گیا، آپ نے کسی پریشانی یا اِضطراب کا مظاہرہ نہ کیا، لوگ آپ کے پاس افسوس کرنے آئے اور آپ کو تسلی دینے لگے، آپ نے فرمایا:جب چور گھوڑاکھول رہا تھا میں نے دیکھ لیاتھا، لوگوں نے عر ض کی: تو پھر آپ نے اس کو للکارا کیوں نہیں ؟ فرمایا : میں ایسے کام میں مصروف تھا جو گھوڑے سے زیادہ اہم اور قیمتی تھا۔ حاضرین چور کے لیے بددعائیں دینے لگے، آپ نے فرمایا: اس کے حق میں بددعا نہ کرو میں نے اپنا گھوڑا اس پر صدقہ کردیا اور اس کو معاف کردیا ہے۔(2)(احیاء العلوم)
ہاں !ایک حاجت ہے
حضرت حاتم اَ صَم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکی خدمت میں ایک امیر حاضر ہوا، آپ نے اس کی طرف التفات نہ کی، وہ کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا لیکن جب حضرت نے اس سے کوئی بات نہ کی تو امیر نے جانے کا ارادہ کیا اور عاجزی سے عرض کی: حضور ! میں آپ کی کچھ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…البدایۃ والنہایۃ، الجزء السادس، ص۳۷۶،
2…احیاء العلوم، کتاب التوحید والتوکل ، بیان آداب المتوکلین۔۔۔إلخ، ۴/۳۴۹