حرصِ تو دلقِ قناعت پارہ کرد نفسِ امارہ ترا آوارہ کرد
چُوں بخواہی لُقمہ اے ناداں ز آز نفس گرداند دہانِ حرص باز
چشمِ شہوت چوں کشاید آں لعین کور گردد دیدءہ اھلِ یقین
دل چوں آلودہ ست از حرص و ہوا کے شود مکشوف اسرارِ خدا
اے درویش ! حرص نے تیری گدڑی چاک کردی، نفسِ امارہ نے تجھے آوارہ کردیا، اے نادان ! جب تو لالچ سے نوالہ لینا چاہتا ہے تو نفسِ امارہ حرص کا منہ کھول دیتا ہے، جب یہ لعین نفس شہوت کی آنکھ کھولتا ہے تو اہلِ یقین کی آنکھ اندھی ہوجاتی ہے، جب کہ دل حرص و ہوا سے آلودہ ہے تو اسرارِ الٰہی کیونکر کھل سکتے ہیں ۔(حضرت بوعلی قلندر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
جواب لاجواب
خلیفہ ہشام بن عبدالملک اُموی حج کرنے مکہ مکرمہ آیا، اس نے حرمِ کعبہ میں حضرت سالم (فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے پوتے) رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو دیکھا تو ان کے قریب جا کر کہا: حضرت ! مجھے کچھ خدمت کا موقع دیا جائے تاکہ مجھے آپ کی خدمت کا شرف حاصل ہوس کے ۔ حضرت سالم رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: اللہ کے گھر میں اللہ کے سوا کسی اور سے سوال کرنا شرم کی بات ہے۔ حضرت سالم رَضِیَ اللہُ عَنْہ جب طوافِ کعبہ سے فارغ ہو کر حرم شریف سے باہر نکلے تو ہشام نے ان سے عرض کی:حضور اب تو حرم شریف سے باہر ہیں اب کچھ طلب فرمالیجئے۔ حضر ت سالم رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے پوچھا: میں آپ سے کیا مانگوں دنیا یا دین؟ ہشام بولا:دنیا! حضرت سالم نے فرمایا: دنیا تو میں نے