اپنا کام ہمیشہ اللہ کے سپرد کئے رکھنا ہی بہتر ہے، اپنی حاجت اُسی سے طلب کر، اپنا راز اُسی سے کہہ جب کہ تیری عزت و خواری اور رنج و راحت حق تعالیٰ ہی سے ہے تو پھر اس کے سوا کسی پر اعتماد نہ کر، نہ کسی سے التجا ء کر۔
گناہ آمد شہودِ ماسوی اللہ ازیں نوعِ گناہ استغفر اللہ
ماسوی اللہ کا دیکھنا گناہ ہے، میں اس نوعِ گناہ کی اللہ سے معافی چاہتا ہوں ۔
چارہ سازی کررہا ہے اُس کا لطف دل نواز باعثِ صد عیش ہے یہ بے کسی میرے لیے
لالچی کتا
خاندانِ راشدیہ کے مُورِثِ اعلیٰ سیّد محمد راشد (پیر سائیں روضے دھنی) رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا: ایک کتا منہ میں گوشت کا ٹکڑا دبائے گوشۂ عافیت کی تلاش میں ایک تالاب کے کنارے پہنچا۔ پانی میں اپنا عکس دیکھ کرسمجھا کہ کوئی دوسرا کتا منہ میں گوشت کا ٹکڑا دبائے کھڑا ہے، اس نے اس سے وہ ٹکڑا چھین لینے کے لیے منہ کھول کر حملہ کردیا، اس کے منہ والا ٹکڑا پانی میں جاگرا اور خود بھی غوطے کھانے لگا، یہی حال طالبانِ دنیا کا ہے۔ (ملفوظاتِ روضے دھنی)
ایں دو چشمِ تنگ دنیادار را یا قناعت پُر کند یا خاکِ گور
(حضرت سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
دنیا دار کی اِن چھوٹی سی دو آنکھوں کو یا قناعت بھر سکتی ہے یا قبر کی مٹی۔