Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
44 - 191
 وَلَاھُمْ یُنْصَرُوْنَo (1)یہ لوگ وہ ہیں    جنہوں  نے آخرت  کے  بدلے میں   دنیا کی زندگی کو خرید لیا تو ان سے عذاب میں   تخفیف نہ کی جائے گی اور نہ انہیں   (کسی سے) مدد پہنچے گی۔(2)  (احیاء العلوم) 
جو شخص ا للّٰہ کا ہو رہتا ہے
	سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم  کا ارشاد: جو شخص (تمام مخلوق سے منقطع ہو کر ) اللہ کا ہو رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ہر مَشَقَّت سے بچا لیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں  سے کہ اسے گمان بھی نہیں   ہوتا اور جو شخص دنیا کا ہو رہتا ہے اللہ اس کودنیا ہی  کے  حوالے کردیتا ہے۔(3)(طبرانی درصغیر)
خانۂ دل کن ز غیر حق تہی	تا متاعِ وحدت اندر وے نہی
خویش را ہم در دلِ خود جا مَدہ 	در مقامِ شاہ رختِ خود منہ
     خانۂ دل کو غیر حق سے خالی کر ، تاکہ تو متاعِ وحدت اس میں   رکھ س کے ، اپنے دل میں   خود کو بھی جگہ نہ دے، بادشاہ  کے  مقام میں   اپنا سامان نہ رکھ۔ 
دائما تفویض کار خود بحق باشد نکو			حاجت ازوَے خواہ، رازِ خویش باوے بگو
عزت و خواری و رنج و راحت چوں  از حق ست		اعتماد و التجاء بر کس مکن اِلَّا برو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان:یہ ہیں  وہ لوگ جنہوں نے آخرت  کے  بدلے دنیا کی زندگی مول لی تو نہ ان پر سے عذاب ہلکا اور نہ ان کی مدد کی جائے۔ (پ۱، البقرۃ :۸۶)
2…احیاء العلوم، کتاب ذم الدنیا، ۳/ ۲۴۸
3…المعجم الصغیر، الجزء الاول ، ص ۱۱۶