کے ہمراہ تھے آپ نے سونے اور تینوں لاشوں کی طرف اشارہ کر کے ہمراہیوں سے فرمایا: دیکھ لو دنیا کا یہ مال ہے اور دنیا کی طمع کا انجام یہ ہے۔ پس تم کو لازم ہے کہ تم اس سے بچتے رہو۔(1) (احیاء العلوم)
اس کے لیے کیادعا کروں ؟
اپنی آخری عمر میں جن دنوں حضرت اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کوفہ میں مقیم تھے اور فرات کے کنارے عبادتِ الٰہی میں مصروف رہتے تھے ایک دن حضرت ہرم بن حیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان ان کی ملاقات کے لیے آئے، یہ ان کی پہلی ملاقات تھی، حضرت ہرم بن حیان نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم ، حضرت اویس قرنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے جواب دیا: وَعَلَیْکُمُ السَّلَام یَا ہَرِم بن حَیَّان۔ حضرت ہرم نے حیرت سے کہا: تعجب ہے آپ کو میرا اور میرے باپ کا نام کیونکر معلوم ہوگیا۔ فرمایا :اہل ایمان کی روحیں ایک دوسرے کو پہچانتی ہیں ، کہئے کیسے آنا ہوا؟ہرم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے کہا: آپ کے پاس سکون کی خاطر حاضر ہوا ہوں ۔ فرمایا : اللہ کے سوا کہیں اور سکون تلاش مت کیجئے، سکون کی تلاش میں آپ غلط جگہ چلے آئے ہیں ۔ہرم نے شرمندگی سے کہا: بجا ارشاد، کچھ نصیحت فرمائیے! فرمایا: سوتے وقت موت کو سرہانے اور بیداری میں آنکھوں کے سامنے رکھو، گناہ کو حقیر نہ سمجھو کیونکہ یہ اللہ کی توہین ہے۔
ہرم بہت زیادہ متأثر ہوئے ے ،کہا: دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ رزق میں کسی کا محتاج نہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء العلوم،کتاب ذم البخل ...إلخ ، حکایات البخلاء ، ج ۳، ص ۳۳۶