Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
40 - 191
عَلَیْہِ السَّلامپانی پی کر واپس آئے تو روٹی موجود نہ پا کر پوچھا: تیسری روٹی کہاں  گئ ؟ وہ بولا : مجھے کچھ پتا نہیں  ۔ آپ خاموش ہورہے، تھوڑی دیر بعد فرمایا: آؤ آگے چلیں ۔ 
	راستہ میں  ایک ہرنی ملی جس  کے  ساتھ اس  کے  دو بچے تھے، آپ نے ہرنی  کے  ایک بچے کو اپنے پاس بلایا وہ آگیا،آپ نے اسے ذبح کیا اور گوشت بھون کر اس شخص سے فرمایا: آؤ ہم دونوں  کھائیں ، گوشت کھاچکنے  کے  بعد آپ نے ہڈیوں  کو جمع کیا اور فرمایا: قُمْ بِاِذْنِ اللہ ِ(اللہ  کے  حکم سے زندہ ہو کر کھڑا ہو جا) ہرنی کا بچہ زندہ ہو کر اپنی ماں   کے  ساتھ چلا گیا، آپ نے اس شخص سے فرمایا: تجھے اس اللہ کی قسم! جس نے مجھے یہ معجزہ دکھانے کی قدرت عطا کی سچ بتا وہ تیسری روٹی کہاں  گئ ؟وہ بولا: مجھے کچھ پتا نہیں  ، فرمایا : آؤ آگے چلیں ، چلتے چلتے ایک دریا پر پہنچے آپ نے اس شخص کا ہاتھ پکڑا اور پانی  کے  اوپر چلتے  ہوئے ے دریا  کے  دوسرے کنارے پہنچ گئے، اب آپ نے اس شخص سے فرمایا: تجھے اس اللہ کی قسم! جس نے مجھے یہ معجزہ دکھانے کی قدرت عطا کی سچ بتا وہ تیسری روٹی کہاں  گئ ؟وہ بولا : مجھے کچھ پتا نہیں  ،آپ نے فرمایا :آؤ آگے چلیں ۔
	چلتے چلتے ایک ریگستان میں   پہنچے، آپ نے ریت جمع کر کے  ایک ڈھیری بنائی  اور فرمایا: اے ریت کی ڈھیری! اللہ  کے  حکم سے سونا بن جا۔ ریت کی ڈھیری فوراً سونا بن گئ ، آپ عَلَیْہِ السَّلام نے اس  کے  تین حصے کیے پھر فرمایا: یہ ایک حصہ میرا ہے اور ایک حصہ تیرا اور ایک اس شخص کا جس نے وہ تیسری روٹی لی۔ یہ سنتے ہی وہ شخص جھٹ بول اٹھا:یا نبی اللہ ! وہ تیسری روٹی میں   نے ہی لی تھی۔آپ نے ہنس کر فرمایا: یہ سارا سونا