نصیب کہ محبوبِ خدا سرور کاءنات صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اس گنہگار غلام کو یاد فرمایا اور دیوانہ وار ننگے پاؤں ننگے سر دوڑتا ہوا باہر آیا۔ رابعہ کے والد کے قدموں کو بوسہ دے کر بولا: آپ میرے محبوب آقا کے فرستادہ ہیں ، میری ملکیت میں جو کچھ بھی ہے سب آپ کی ملکیت ہے آپ جس قدر مال چاہیں لے کر صرف کریں ۔
رابعہ کے والد نے کہا: جس قدر حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا حکم ہے مجھ کو وہی کافی ہے۔ والی بصرہ نے فوراً چار سو درہم پیش کرددیئے ے، رابعہ کے والد چار سو درہم لے کر چلے آئے،اس کے بعد والی بصرہ نے حکم دیا: ابھی دس ہزار درہم فقراء کو تقسیم کرددیئے جائیں اور مسلسل چار دن تک تقسیم خیرات جاری رہے، کوئی سوالی خالی ہاتھ واپس نہ جائے۔(1)(تذکرۃ الاولیاء)
سچ بتا، وہ تیسری روٹی کہاں گئ ؟
ایک شخص نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلامکی خدمت میں عرض کی: یا نبی اللہ! میں چاہتا ہوں کہ آپ کی خدمت میں حاضر رہوں آپ کی خدمت کروں اور آپ سے علم ِ دین سیکھوں ۔ آپ نے اس کواپنے ہمراہ رہنے کی اجازت دے دی، چلتے چلتے جب دونوں ایک نہر کے کنارے پہنچے تو آپ نے فرمایا: آؤ کھانا کھالیں ۔
آپ کے پاس تین روٹیاں تھیں ۔ جب ایک ایک ر وٹی دونوں کھاچکے تو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلام نہر سے پانی پینے لگے ،اس شخص نے تیسری روٹی چھپالی، حضرت عیسیٰ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تذکرۃ الاولیاء ، ذکر رابعہ رحمۃ اللّٰہ علیھا، الجزء الاول، ص۶۵ بتغیر قلیل