Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
38 - 191
 ڈھونڈلیتے۔ باپ نے کہا: دوسرا دروازہ تو بیٹی ہمیشہ کھلا رہتا ہے مگر اس پر دستک دینے کی ضرورت نہیں  ۔
	بیٹی خاموش رہی، تھوڑی دیر بعد باپ کی آنکھ لگ گئ ، سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمخواب میں   تشریف لے آئے فرمایا: کیا صرف چراغ  کے  لیے کوئی  اتنا پریشان ہوتا ہے؟ اس نے پشیمان ہو کر سوچا اگر وہ بیوی اور بیٹیوں   کے  اصرار پر پڑوسی  کے  دروازے تک نہ جاتا تو حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  کے  سامنے میری آنکھیں  ندامت سے نہ جھکتیں ، عرض کی: یارسول اللہ !(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) غلام سے بڑی لغزش ہوگئ، لِلّٰہ! معاف فرمائیں ، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے فرمایا: تیری بچی اندھیرے میں   اس طرح آئی  ہے جیسے رات  کے  بعد سورج نکلتا ہے، اس کی روشنی دو ر دور تک پھیلے گی اور اس کی شفاعت سے میری اُمت  کے  ایک ہزار افراد بخشے جائیں گے۔ بوڑھے باپ پر لرزہ طاری تھا، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے فرمایا: والی بصرہ ہم پر روزانہ ایک سو مرتبہ درود بھیجتا ہے اور ہر جمعرات کو چار سو مرتبہ درود پڑھتا ہے، آج بھی جمعہ کی شب تھی مگر اس نے یہ ہدیہ درود نہیں   بھیجاہے لہٰذا اسے ہمارا پیغام پہنچادو کہ وہ کفارے  کے  طور پر چار سو درہم تمہیں   دے دے۔
	صبح  ہوئی تو رابعہ  کے  والد ماجد جو دیدارِ رسالت مآب(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کی مَسَرَّت میں   سرشار تھے والی بصرہ  کے  ایوان میں   جا پہنچے اور حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا پیغام پہنچایا والی بصرہ پیغام سنتے ہی جذبۂ شوق و جوش مَسَرَّت سے رو پڑا اور کہا: زہے