Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
37 - 191
امیرالمؤمنین علی مرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا ارشاد 
لَنَقْلُ  الصَّخْرِ  مِنْ   قُلَلِ  الْجِبَالِ	اَحَبَّ    اِلَیَّ    مِنْ    مِنَنِ    الرِّجَالِ
یَقُولُ النَّاسُ بِیْ فِی الْکَسْبِ عَارٌ	فَقُلْتُ   الْعَارُ   فِیْ   ذُلِّ   السُّؤَالِ
(دیوان حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ)
       میرے نزدیک پہاڑوں  کی چوٹیوں  سے پتھرڈھونا لوگوں   کے  احسانات اٹھانے سے زیادہ پسندیدہ کام ہے، لوگ کہتے ہیں    کہ میرے لیے کمائی  کرنا شرم کی بات ہے میں   کہتا ہوں  کہ شرم کی بات تو سوال کی ذلت میں   ہے۔
 سرکارِدو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا کرم 
	حضرت رابعہ بصری رَحْمَۃُ ا للّٰہِ عَلَیْہَا    ۹۷  ؁ہجری کی ایک سرد اور تاریک رات میں   تولد  ہوئیں  توگھر میں   چراغ جلانے کو تیل موجود نہ تھا بچی کی والدہ اور بہنوں نے اصرار کیا کہ پڑوسی  کے  ہاں  سے تھوڑا سا تیل بطورِ قرض مانگ لائیں ۔ رابعہ  کے  والد مجبوراً پڑوسی  کے  دروازے پر پہنچے تو دل میں   سوچا آج تک یہ ہاتھ کسی  کے  آگے نہیں   پھیلا اور اللہ تعالیٰ ہمارے حال سے واقف ہے،آپ الٹے پاؤں  واپس چلے آئے۔ بیٹیوں  نے پوچھا : ابا جان ! تیل ملا؟ فرمایا: نہیں   بیٹی!
	ایک بیٹی بولی: تو آپ دوسرے دروازے پر دستک دے لیتے شاید کچھ تیل مل جاتا تو ہم چراغ کی روشنی میں   اس بچی کو ٹھنڈی ہوا سے بچانے  کے  لیے کوئی  کپڑا ہی