وہ ہمارے سروں پر کھڑے تھے تو میں نے (گھبرا کر) رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے عرض کیا :یارسول اللہ !صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اِن میں سے کسی نے بھی اپنے قدموں کی طرف ذرا جھک کر دیکھا تو ہم انہیں صاف نظر آجائیں گے۔رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: اے ابوبکر !(رَضِیَ اللہُ عَنْہ)ان دو مظلوم بندوں کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے یعنی جب ہمارا حقیقی محافظ اور نگہبان اللہ ہمارے ساتھ ہے تو ہمیں خوفزدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔(1)(بخاری ،مسلم)
میرا طبیب میرے حال سے بے خبر نہیں
ایک دفعہ امیر المؤمنین عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ بیمار ہوئے ے مرض کچھ شدید ہوگیا تو اَحباب نے مشورہ دیا کہ آپ کسی طبیب کو بلا کر علاج کرالیں ۔فرمایا: میرا طبیب میرے حال سے بے خبر نہیں ۔ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ اپنے کان کو ہاتھ لگادینے سے مجھے صحت حاصل ہوسکتی ہے تو واللہ! میں کبھی کان کو ہاتھ نہ لگاؤں ۔(کیمیائے سعادت)
تو سائل نہیں بلکہ تاجر ہے
امیر المؤمنین عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے بعد مغرب ایک سائل کی صدا سنی، آپ نے ایک شخص سے فرمایا: اس کو کھانا دے دو۔اس نے کھانا دے دیا، پھر آپ نے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب التفسیر،باب ثانی اثنین اذ ہما۔۔۔الخ،۳/۲۳۵،الحدیث:۴۶۶۳ و مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم۔۔۔إلخ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ، الحدیث:۲۳۸۱،ص ۱۲۹۸