دوبارہ سائل کی صدا سنی، فرمایا: ہم نے کہا نہیں تھا کہ اس کو کھانا دے دو؟ اس نے عرض کی: میں نے اس کو کھانا کھلادیا ہے۔
آپ نے سائل کی جھولی جو دیکھی تو روٹیوں سے بھری تھی، فرمایا: تو سائل نہیں بلکہ تاجر ہے۔ پھر جھولی لے کر زکوٰۃ کے اونٹوں کے سامنے ڈال دی اور سائل کو دُرّے لگائے اور فرمایا:پھر ایسا نہ کرنا۔
حضرت امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیْ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے اس کی جھولی روٹیوں سے بھری دیکھ کر جان لیا کہ یہ شخص سوال کرنے سے مُستَغْنی ہے، (محتاج نہیں ) اور جن لوگوں نے اس کو روٹیاں دی ہیں اسے ضرورت مند محتاج سمجھ کر ہی دی ہیں حالانکہ وہ جھوٹا تھا تو لوگوں کا دیا ہوا اس کی مِلک میں نہ آیا اس لیے کہ فریب سے لیا تھا اب اِن روٹیوں کو ان کے مالکوں تک پہنچانا مشکل تھا اس جہت سے کہ کیا معلوم کون سی روٹی کس نے دی ہے پس یہ مال لاوارث ٹھہرا، لہٰذا اس کا خرچ کرنا مصالح اہلِ اسلام میں واجب ہوا اور زکوٰۃ کے اونٹوں کا چارہ بھی داخل مصالح ہے اس لیے حضرت فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے وہ روٹیاں زکوٰۃ کے اونٹوں کو کھلا دیں اور سائل کو مارنا برائے تادیب تھا اور شریعت کے نفاذ کے تحت ضروری تھا۔ (1)(احیاء العلوم)
خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہو اے اکبر یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد
(لسان العصراکبر الٰہ آبادی)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء العلوم، کتاب الفقر والزھد، بیان تحریم السؤال۔۔۔إلخ، ۴/۲۶۰