جڑ ہے ۔(1)(بیہقی درشعب ، ابن ابی الدنیا)
حُبِّ دنیا چوں کند بر دل نگاہ ہمچو خارا گرددش سخت و سیاہ
کور گردد روشن چشم یقین بستہ گردد بعد ازاں درہائے دین
دنیا کی محبت جب دل پر نگاہ ڈالتی ہے تو دل سنگِ خارا کی مانند سخت اور سیاہ ہوجاتا ہے، یقین کی روشن آنکھ اندھی ہوجاتی ہے، اس کے بعد دین کے دروازے بند ہوجاتے ہیں ۔ ( حضرت بو علی قلندر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
صد تمنا در دلت اے بوالفضول کے کند نورِ خدا در دل نزول
اے بیہودہ بکواسی سینکڑوں آرزوئیں تیرے دل میں ہیں تو پھر اللہ کا نور تیرے دل میں کیونکر آئے گا؟
اسی کی برکت سے تجھے رزق مل رہا ہے
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں : رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے زمانۂ مبارک میں دو بھائی تھے، ان میں سے ایک تو روزانہ رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں (علم دین سیکھنے کے لیے) حاضر ہوا کرتا تھا اور دوسرا دن بھر روزی کماتا (اور اپنے بال بچوں کے علاوہ اس بھائی کا خرچ بھی چلاتا تھا) ایک دن اس کمانے والے نے رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے اپنے بھائی کی شکایت کی (اور عرض کی کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس کو طلب ِ علم سے منع کریں اور اسے کمائی کرنے کا حکم دیں تاکہ یہ اپنی دنیا سنبھال لے، اس کی شادی وغیرہ کا انتظام ہوس کے ، مجھ سے اس کا بوجھ اُتر جائے ) تو حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان، باب فی الزھد۔۔۔إلخ، ۷/۳۳۸، الحدیث: ۱۰۵۰۱