دیا : ہم دنیا پر فریفتہ تھے اور نافرمانوں ، بدکاروں کے کہنے پر چلتے تھے، آپ نے پوچھا: تم لوگ دنیا کو کس قدر چاہتے تھے؟ وہ بولا: جس قدر بچہ اپنی ماں کو چاہتا ہے کہ جب سامنے آئی تو خوش ہوگیا اور جب چلی گئ تو رنجیدہ ہو کر رونے لگا۔ آپ نے پوچھا: تیرے ساتھی کیوں جواب نہیں دیتے؟ اس نے بتایا : ان سب کے منہ میں آگ کی لگامیں ہیں ، ان کی باگیں تند مزاج اور کڑے فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں ۔ آپ نے فرمایا: پھر تو کس طرح جواب دے رہا ہے؟ اس نے کہا :میں ان کی بداَعمالیوں میں شریک نہ تھا لیکن چونکہ میں ان کے ساتھ رہتا تھا اس لیے عذاب کی لپیٹ نے مجھے بھی نہ چھوڑا ۔ آپ نے پوچھا: اب تو کس حال میں ہے؟ وہ بولا: اب میں دوزخ کے کنارے لٹکا ہوا ہوں معلوم نہیں کہ دوزخ سے بچ رہوں گا یا اسی میں دھکیل دیا جاؤں گا۔ حضرت عیسی عَلَیْہِ وَالسَّلام نے حواریوں کو مخاطب کر کے فرمایا : عافیت کے ساتھ جو کی روٹی نمک سے کھالینا اور ٹاٹ کا لباس پہننااور گھوڑے پر سو رہنا بھی غنیمت ہے۔(1)(احیاء العلوم)
حضور سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: جو شخص اپنی دنیا سے محبت رکھتا ہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو اپنی آخرت سے محبت رکھتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے پس اختیار کرو اس کو جو باقی رہنے والی ہے فنا ہو جانے والی پر۔ (2)
(احمد،طبرانی، حاکم، بزار)
حضور سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد:دنیا کی محبت ہر ایک خطا (گناہ) کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء العلوم، کتاب ذم الدنیا، ۳/۲۵۳
2…المستدرک، کتاب الرقاق، ۵/۴۵۴، الحدیث: ۷۹۶۷