نے فرمایا : شاید کہ اسی کی برکت سے تجھے بھی روزی مل رہی ہے،(1) (یعنی تو اسے علم دین سیکھنے دے اس کا خرچہ تو برداشت کیے جا اللہ تعالیٰ اس کا رزق تیرے دستر خوان پر بھیجے گا، تجھے برکتیں ہوں گی)(ترمذی، مشکوٰۃ)
اس فرمان سے سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے شکایت کرنے والے کی یہ غلط فہمی دور فرمائی کہ تو نے محض کمائی کو حصولِ رزق کاحقیقی سبب سمجھ رکھا ہے اللہ تعالیٰ کی صفت رَزَّاقیت سے تمہاری نظر اٹھ گئ ، یہی وجہ شکایت ہے اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتے اور سمجھتے کہ رزق وہی دیتا ہے توتم یہ شکایت بھی نہ کرتے۔نیز حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ واضح فرمایا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ تم اپنے بھائی کو جو علم ِ دین سیکھنے کی وجہ سے کمائی نہیں کرسکتا، اپنی قسمت کے رزق میں سے کھلاتے ہو بلکہ یہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسمت کا رزق تمہارے ذریعہ سے اسے پہنچا رہا ہے اور اسی کی برکت سے تمہیں بھی رزق عطا فرمارہا ہے۔
تم پر عُکَّاشہ سبقت لے گئ ے
سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا : مجھے تمام انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کی اُمتیں دکھائی گئیں ، میں نے اپنی اُمت کو دیکھا اس کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ ان سے زمین اورپہاڑ بھرے ہوئے ے تھے تاحد نظر آدمی ہی آدمی تھے، مجھے اپنی اُمت کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تمہیں مسرت ہوئی ہے؟ میں نے عرض کی: میں خوش ہوں ۔ ا رشاد ہوا : ان میں سے ستّرہزار آدمی کسی حساب کتاب کے بغیر جنت میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی، کتاب الزھد، باب فی التوکل علی اللّٰہ،۴/۱۵۴، الحدیث:۲۳۵۲