Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
24 - 191
 اللہ! (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کیا وہ لوگ نمازی ہوں  گے؟، فرمایا : ہاں ! وہ لوگ نمازیں  بھی پڑھتے ہوں  گے اور روزے بھی رکھتے ہوں  گے اور رات کا کچھ حصہ جاگ کر اللہ کی عبادت بھی کرتے ہوں  گے، لیکن ان میں  (بری ) بات یہ ہوگی کہ جب دنیا کی کوئی  چیز ان  کے  سامنے آتی اس پر کود پڑتے تھے ۔(1)(یعنی حصول دنیا  کے  لیے جاءز و ناجاءز کی پروا نہ کرتے تھے)(ابونعیم درحلیہ)
دنیا  کے  حریصوں  کا حشر 
	حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلاماپنے حواریوں   کے  ساتھ سفر میں   تھے، انہوں  نے ایک ایسا گاؤں  دیکھا جس  کے  باشندے مکانوں  اور گلی کوچوں  میں   مرے پڑے تھے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلامنے فرمایا: یہ لوگ غضب الٰہی کا شکار ہوگئے ہیں    ورنہ ایک دوسرے کو دفن کرتے۔ حواریوں  نے عرض کی: یانبی اللہ! کیا ہی اچھا ہو کہ ہمیں   یہ معلوم ہوجائے کہ یہ لوگ کس جرم کی پاداش میں   ہلاک کئے گئے ہیں   ؟
	حضرت عیسی عَلَیْہِ السَّلامنے بارگاہِ الٰہی میں   عرض کی: اے ہمارے رب! ہم کو ان لوگوں  کی تباہی کا سبب بتادے۔ حکم ہوا : رات  کے  وقت انہیں   پکار کر انہی سے پوچھ لینا۔ جب رات  ہوئی تو آپ نے ایک ٹیلے پر کھڑے ہو کر پکارا، ان میں   سے ایک شخص نے جواب دیا، بولا: اے روح اللہ! ہم شام کو حسبِ معمول اچھی طرح سوئے تھے لیکن علی الصباح جہنم میں   جا پڑے۔ آپ نے پوچھا: اس کا کیا سبب ہوا؟ اس نے جواب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حلیۃ الاولیاء ،۱/۲۳۳، الحدیث: ۵۷۵ ملخصًا و احیاء العلوم، کتاب ذم الدنیا، ۳/۲۵۲