عارفاں دادند او را صد طلاق ہر کہ عاشق شد بر او او گشت عاق
دنیا پُرفریب بڑھیا ہے بوڑھے اور جوان کو بے صبر بنادیتی ہے خدا شناسوں نے اس کو سو100 طلاقیں دیں جو اس پر عاشق ہوا خدا کا نافرمان ہوگیا۔
طلب دُنیا کا وبال
حضور سرور کاءنات صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا : جس شخص کا یہ حال ہوجائے کہ دنیا ہی اس کا بڑا مقصود ہو تو وہ اللہ کی طرف سے کسی چیز میں نہیں اور اللہ تعالیٰ اس کے دل کو چار خصلتیں لازم کردیتا ہے ، ایک ایسا فکر و تردد جو اس سے کبھی منقطع نہیں ہوتا۔
دوم :ایسی مشغولیت کہ اس سے کبھی فارغ نہیں ہوتا۔
سوم: ایسی محتاجی کہ کبھی غنا کو نہیں پہنچتا۔ (یعنی ہمیشہ حاجت مند ہی رہتا ہے)
چہارم: ایسی آرزو کہ کبھی اس کی انتہا کو نہیں پہنچتا یعنی اس کی آرزوئیں کبھی پوری
نہیں ہو پاتیں ۔ (1)(اوسط طبرانی، ابومنصوردیلمی)
دنیا کے لیے بے صبری کا انجام
حضور سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: قیامت کے دن کچھ لوگ ایسے آئیں گے کہ ان کے (نیک) اَعمال وادءتہامہ کے پہاڑوں کی مانند ہوں گے، ان کے لیے حکم ہوگا کہ ان کو جہنم میں لے جاؤ۔صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: یارسول
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الاوسط للطبرانی ،۱/۱۴۷، الحدیث:۴۷۱ و فردوس الاخبار، ۲/۲۹۶، الحدیث: ۶۲۲۷