تو صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ بے اِختیار رو پڑے
حضرت زید بن اَرقم رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ نے پینے کو پانی طلب کیا، آپ کی خدمت میں شہد ملا ہو اپانی پیش کیا گیا، جب آپ نے منہ کو لگایا تو بے اختیار رو پڑے اور اس قدر روئے کہ حاضرین بھی رونے لگے، حاضرین تو رو کر چپ ہوگئے لیکن صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ برابر روتے چلے گئے یہاں تک کہ حاضرین نے جانا کہ ہم آپ سے رونے کا سبب بھی نہ دریافت کرسکیں گے، پھر جب آپ نے اپنی آنکھیں پونچھ ڈالیں تو حاضرین نے عرض کی: اے نائب رسول (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)!آپ اس قدر کیوں روئے؟
فرمایا : ایک مرتبہ میں رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر تھا کہ میں نے دیکھا کہ آپ کسی سے فرماتے ہیں :مجھ سے دُور ہوجا حالانکہ وہاں (بظاہر) میرے علاوہ اور کوئی بھی نہ تھا، میں نے عرض کی: یارسول اللہ!صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم آپ کس کو دور کرتے ہیں ؟ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا : اس وقت دنیا مجسم ہو کر میرے سامنے آئی ، میں نے اس کو کہا:دور ہوجا، وہ دوبارہ آئی اور مجھ سے کہنے لگی: آپ تو مجھ سے بچے رہیں گے مگرآپ کے بعد کے لوگ تو مجھ سے بچ نہیں سکیں گے۔ (1)
(حاکم، بیہقی، بزاز)
ہست دنیا پیر زال و پُرفریب میکند پیر و جواں را نا شکیب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان، باب فی الزھد وقصر الامل۔۔۔إلخ، ۷/۳۴۳، الحدیث: ۱۰۵۱۸