Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
21 - 191
 الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کو دیکھ کر تبسم فرماتے  ہوئے ے کہا:مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے یہ سُن لیا ہے کہ ابوعبیدہ (رَضِیَ اللہُ عَنْہ) کچھ مال لایا ہے۔ صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: ہاں ! یارسول اللہ(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) ، فرمایا: تمہیں   خوشخبری ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تنگدستی دور کردی، بخدا ! میں   تمہاری محتاجی(تنگدستی) سے خائف نہیں   ہوں  البتہ اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں   تم پر دنیا کی فراخی(مال کی کثرت) اس قدر نہ ہوجائے جس قدر کہ تم سے پہلے لوگوں  پر ہوگئ تھی اور تم بھی اسی طرح دنیا کی طرف راغب ہوجاؤ جیسے کہ وہ راغب ہوگئے تھے، اور پھر دنیا انہی کی طرح تم کو بھی تباہ کردے۔ (1)   (بخاری ، مسلم)
مختصر نصیحت
	حضرت ابوایوب انصاری رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں    کہ ایک اعرابی رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں   حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یارسول اللہ!صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم مجھ کو کچھ نصیحت مختصراً ارشاد فرمائیے، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: نماز ایسی پڑھ جیسے کوئی  رخصت ہونے والا پڑھتا ہے (یعنی یہ خیال کر کہ شاید یہ میری آخری نماز ہو، دوبارہ پڑھنے کی مہلت نہ ملے) اور نہ ایسی بات کر کہ جس سے کل معذرت کرنی پڑے اور جو کچھ لوگوں   کے  پاس ہے اس سے ناامید رہ۔ (یعنی دوسروں   کے  مال و متاع میں   طمع نہ رکھ)۔(2) (ابن ماجہ ، حاکم)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب المغازی ، ۳/۲۲، الحدیث: ۴۰۱۵
2…ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الحکمۃ، ۴/۴۵۵، الحدیث: ۴۱۷۱