گا(کمائی میں برکت، دل میں فراغت حاصل ہوگی) اور اگر تویہ نہ کرے گا (اپنا دل دنیا میں لگادے گا، کبھی آخرت کی طرف مائل نہ ہوگا) تو تیرا ہاتھ کام کاج سے بھردوں گا اور تیری فقیری (محتاجی) بند نہ کروں گا۔(1)(احمد، ابن ماجہ)
یعنی اگر تو نے اپنے کو دنیا کی فکروں میں ہی لگادیا، تیرے دل میں دُنیا اُتر گئ تو تو کام کرے گا زیادہ فکر کرے گا زیادہ لیکن ملے گا وہی جو تیرے مقدر میں ہے تو مالدار ہو کر بھی محتاج ہی رہے گا، دل کا چین اللہ کی بڑی نعمت ہے، یہ اس کے ذکر سے نصیب ہوتا ہے۔(2)(مرآۃ شرح مشکوٰۃ)
رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد:جب تم میں سے کوئی ایسے شخص کو دیکھے جسے اس پر مال و اَعضا میں بڑائی دی گئ ہے تو (اسے چاہیے کہ) اس شخص کو بھی دیکھ لے جو اس سے نیچے (کمتر)ہے۔(3)(بخاری، مسلم)
یہ دنیا کہیں تم کو بھی تبا ہ نہ کردے
حضرت ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے بحرین کی مہم پر بھیجا ، فتح پا کر جب وہ وہاں سے واپس آئے تو بہت سا مال غنیمت ساتھ لائے، نماز فجر سے فارغ ہو کر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم تشریف لے جانے لگے تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سامنے کھڑے ہوگئے، حضور عَلَیْہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الھمّ بالدنیا، ۴/۴۲۵، الحدیث:۴۱۰۷
2…مرآۃ المناجیح ، دل نرم کرنے کی باتیں ، ۷/۱۵
3…بخاری،کتاب الرقاق، باب لینظر الی من ھو ا سفل۔۔۔إلخ ، ۴/۲۴۴، الحدیث:۶۴۹۰