Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
19 - 191
گیا ہے کہ بعض لوگ مرتے وقت کئی  کئی  دن بے ہوش پڑے رہتے ہیں    صرف سانس لیتے رہتے ہیں    کچھ کھاتے پیتے نہیں   کیونکہ ابھی ان  کے  حصے کی ہوا میں   کچھ سانسیں  باقی ہوتی ہیں   ، اپناکھانا، پانی پورا استعمال کرچکے  ہوتے ہیں    وہ سانسیں  پوری کرنے  کے  لیے اس طرح پڑے رہتے ہیں   اور پوری کرچکنے  کے  بعد مرتے ہیں   ۔(1)(مرآۃ شرح مشکوٰۃ)
	رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: ہلاک ہوجائے دنیا کا بندہ، روپیہ پیسہ کا بندہ اور اعلیٰ کپڑوں  کا بندہ کہ اگر اسے دیا جائے تو راضی رہے اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہوجائے وہ ہلاک ہوجائے برباد ہوجائے اور جب کانٹا لگے تو نہ نکلے۔(2)(بخاری ، مشکوٰۃ)
	یہ کلمات بددعا  کے  ہیں    کہ ایسا بندہ خدا کرے ہلاک، نگوں سار، ذلیل و خوار ہو جائے اور جب کسی مصیبت میں   پھنسے تو کوئی  اسے نکالنے والا نہ ہو پھنسا ہی رہے۔ ممکن ہے کہ یہ جملہ خبر یہ ہو یعنی ایسا آدمی ذلیل و خوار رہتا ہے، مصیبت میں   اس کا کوئی  غمخوار نہیں   ہوتا۔(3)(مرآۃ شرح مشکوٰۃ)
	رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے انسان! تو میری عبادت  کے  لیے فارغ ہوجا میں   تیرا سینہ غنا سے بھردوں  گا اور تیری غریبی دور کردوں 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مرآۃ المناجیح، توکل اور صبر کا بیان، ۷/۱۱۴، ۱۱۵ ملتقطاً
2…بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب الحراسۃ۔۔۔إلخ، ۲/۲۲۷، الحدیث: ۲۸۸۷ و مشکاۃ، کتاب الرقاق، الفصل الاول، ۲/۲۴۲، الحدیث: ۵۱۶۱
3…مرآۃ المناجیح، نرمی دل کی باتیں ، ۷/۵