گیا ہے کہ بعض لوگ مرتے وقت کئی کئی دن بے ہوش پڑے رہتے ہیں صرف سانس لیتے رہتے ہیں کچھ کھاتے پیتے نہیں کیونکہ ابھی ان کے حصے کی ہوا میں کچھ سانسیں باقی ہوتی ہیں ، اپناکھانا، پانی پورا استعمال کرچکے ہوتے ہیں وہ سانسیں پوری کرنے کے لیے اس طرح پڑے رہتے ہیں اور پوری کرچکنے کے بعد مرتے ہیں ۔(1)(مرآۃ شرح مشکوٰۃ)
رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: ہلاک ہوجائے دنیا کا بندہ، روپیہ پیسہ کا بندہ اور اعلیٰ کپڑوں کا بندہ کہ اگر اسے دیا جائے تو راضی رہے اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہوجائے وہ ہلاک ہوجائے برباد ہوجائے اور جب کانٹا لگے تو نہ نکلے۔(2)(بخاری ، مشکوٰۃ)
یہ کلمات بددعا کے ہیں کہ ایسا بندہ خدا کرے ہلاک، نگوں سار، ذلیل و خوار ہو جائے اور جب کسی مصیبت میں پھنسے تو کوئی اسے نکالنے والا نہ ہو پھنسا ہی رہے۔ ممکن ہے کہ یہ جملہ خبر یہ ہو یعنی ایسا آدمی ذلیل و خوار رہتا ہے، مصیبت میں اس کا کوئی غمخوار نہیں ہوتا۔(3)(مرآۃ شرح مشکوٰۃ)
رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے انسان! تو میری عبادت کے لیے فارغ ہوجا میں تیرا سینہ غنا سے بھردوں گا اور تیری غریبی دور کردوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مرآۃ المناجیح، توکل اور صبر کا بیان، ۷/۱۱۴، ۱۱۵ ملتقطاً
2…بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب الحراسۃ۔۔۔إلخ، ۲/۲۲۷، الحدیث: ۲۸۸۷ و مشکاۃ، کتاب الرقاق، الفصل الاول، ۲/۲۴۲، الحدیث: ۵۱۶۱
3…مرآۃ المناجیح، نرمی دل کی باتیں ، ۷/۵