رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: کوئی جان نہ مرے گی حتی کہ اپنا رزق پورا کرلے، خبردار! اللہ سے ڈرتے رہو تلاش رزق کے لیے درمیانی راہ اختیار کرو (حلال ذرائع سے روزی کماؤ، حرام ذرائع سے بچو، حرام ذرائع سے روزی کمانا افراط ہے اور بالکل کمائی نہ کرنا ، بیکار بیٹھ رہنا تفریط ) اور رزق میں دیر لگنا تم کو اس پر نہ اُکسائے کہ تم اللہ کی نافرمانی سے رزق ڈھونڈنے لگو، (اگرکبھی روزی کم ملے یا کچھ روز کے لیے نہ ملے تو چوری، جوا، ر شوت، خیانت اور غصب وغیرہ سے روزی حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو، حلال کام کئے جاؤ، اس کی مہربانی سے امید رکھو)کیونکہ اللہ کے پاس کی چیزیں اس کی فرمانبرداری سے ہی حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ (1)(شرح سُنّہ ، بیہقی ،مشکوٰۃ)
یعنی سب کی روزی اللہ ہی کے پاس ہے اگر تم نے اسے حرام ذریعہ سے حاصل کیا تو وہ حرام ہو کر تم تک پہنچی رب بھی ناراض ہوا مگر ملا وہی جو تمہارا حصہ تھا اور اگر حلال ذریعہ سے حاصل کیاتو وہ حلال ہو کر تمہارے پاس پہنچااللہ تعالیٰ بھی راضی ہوگیا ملا تمہارا حصہ ہی نیز اس میں قاعدہ بتایا گیا کہ کسی سے کچھ لیناہو تو اسے راضی کر کے لو، اللہ سے سب کچھ لینا ہے تو اسے ہمیشہ خوش کرنے کی کوشش کرو نیز رزق سے مراد صرف کھانا نہیں بلکہ کھانا پینا،پانی، ہوا، دھوپ، زمین پر چلنا وغیرہ سب ہی ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ کی دی ہوئی روزی ہیں ۔ بندہ کی پیداءش سے پہلے ہی اس کی سانسیں ، پانی، غذا سب مقرر ہوجاتی ہیں ، جب بندہ طے شدہ حصہ استعمال کرلیتا ہے تب اسے موت آتی ہے۔ دیکھا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شرح السنۃ، کتاب الرقاق، باب التوکل۔۔۔إلخ، ۷/۳۳۰، الحدیث: ۴۰۰۸ ملخصاً و مشکاۃ، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر، ۲/۲۶۴، الحدیث:۵۳۰۰