اللہ شاہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اپنے وصال کے وقت فرمایا: میں اپنے دل میں تین حسرتیں لے کر جارہا ہوں :
اوّل: یہ کہ راہِ سلوک میں میرے مریدوں میں سے کوئی صاحبِ برداشت نہ ملا۔
دوم: یہ کہ بہ یک وقت کسی سائل نے مجھ سے ایک لاکھ روپے کا سوال نہ کیا۔
سوم: یہ کہ کسی نے مجھ سے میرے سر کی قربانی طلب نہ کی۔
(یکےاز ارشادات مولانا محمد صالح صاحب رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
میں نے بَلْخ کے کتوں کو بھی اِسی حالت میں دیکھا ہے
حضرت شقیق بَلْخی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اپنے شہر سے چل کر حضرتِ ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے شہر میں ان کی ملاقات کے لیے آئے اور ان (1)سے پوچھا: آپ کے شہر کے فقیر کس حال میں ہیں ؟ حضرتِ ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا : نہایت اچھی حالت میں ہیں ، اگر انہیں کچھ مل جاتا ہے تو شکر کرتے ہیں اورنہیں ملتا تو صبر کرتے ہیں ۔ حضرت شقیق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا : میں نے بلخ کے کتوں کو بھی اسی حالت میں دیکھا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…یہاں لکھا تھا کہ حضرت ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے حضرت شقیق رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ سے پوچھا جبکہ احیاء العلوم میں اس کے برعکس ہے یعنی حضرت شقیقرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے حضرت ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ سے پوچھا، اسی طرح آخر تک حضرت شقیق کے بجائے حضرت ابراہیم بن ادھم کا اور حضرت ابراہیم بن ادھم کے بجائے حضرت شقیق کا نام لکھا تھا ، چونکہ مؤلف نے احیاء کا حوالہ دیا ہے لہٰذا ہم نے اس واقعہ کو احیاء کے مطابق درست کر کے لکھ دیا ہے۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔ علمیہ