ضرورت پوری کرنے میں صرف کردیا جائیہ سخاوت کا کمال ہے۔پوچھا: اور بخل کا کمال کیا ہے؟ فرمایا: بخل کا کمال یہ ہے کہ جس چیز کی خود کو ضرورت ہو اسے اپنی ذات کے لیے بھی خرچ نہ کیا جائے اور اسی تاک میں رہے کہ کہیں اور سے ہی یہ ضرورت بھی پوری ہوجائے۔ (گلستان)
پھلدار درخت کو لوگ پتھر مارتے ہیں
بیرم خان مغل بادشاہ اکبر کا سپہ سالار اور اتالیق تھا، یہ شخص جس قدر عالی مرتبہ، شجاع اور بہادر تھا اسی قدر رحم دل ، فیاض اور سخی بھی تھا،ایک دن بیرم خان گھوڑے پر سوار بڑی شان و شوکت کے ساتھ کہیں جارہا تھا کہ ایک شخص نے اسے تاک کر ایک پتھر کھینچ مارا، بیرم خان نے گھوڑے کو روک لیا اور ملازم کو حکم دیا کہ اس شخص کو اشرفیوں کی ایک تھیلی دے دی جائے، ملازم نے اشرفیوں کی ایک تھیلی اس شخص کو دے دی، وہ شخص چلا گیا تو ملازم نے حیران ہو کر عرض کی: سرکار! اس شخص نے آپ کے ساتھ انتہائی گستاخی کی تھی اسے قرار واقعی سزا دینے کے بجائے آپ نے اسے انعام سے نوازا اس میں کیا حکمت ہے؟ تو بیرم خان نے مسکرا کر جواب دیا: پھلدار درخت کو لوگ پتھر مارتے ہیں تو درخت انہیں پھل دیتا ہے، نہ کہ سزا۔
بدی را بدی سہل باشد جزا اگر مردی اَحْسِنْ اِلٰی مَنْ اَسَا
برائی کا بدلہ برائی سے دینا آسان ہے، اگر تو مرد ہے تو جو تیرے ساتھ بُرائی کرے تو اس کے ساتھ نیکی کر۔