حضرتِ ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے دریافت فرمایا : آپ فقیروں کی کس حالت کو درست سمجھتے ہیں ؟ فرمایا : اگر کچھ نہ پائیں تو شکر کریں اور کچھ پائیں تو دوسروں کو عطا کر دیں ۔حضرتِ ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے آپ کے سر کو بوسہ دیا اور کہا: حقیقت یہی ہے۔ (1) ( احیاء العلوم)
سونے کی سِل
آصف الدَّولہ نے دیکھا کہ ایک بڑھیا اصطبل میں اس کے گھوڑے کے سُم سے پتھر کی ایک سِل رگڑ رہی ہے تو آصف الدولہ نے پوچھا: مائی ! کیا کررہی ہو؟ بڑھیا نے جواب دیا: بیٹا میں نے سنا ہے کہ آصف الدولہ کے گھوڑے کا سُم اگر پتھر پر پڑ جائے تو وہ سونا بن جاتاہے، آصف الدّولہ نے کہاسچ ہے مگر تم کو رگڑنا نہیں آتا ، تم سِل چھوڑ جاؤ، میں سونا بنادوں گاوہ بڑھیا سِل چھوڑ کر چلی گئ ،آصف الدولہ نے ملازم کو حکم دیا پتھر کی سِل کے برابر سونے کی سِل بنوا کر لاؤ،ملازم زرگر سے سونے کی سِل بنواکر لے آیا، اگلے دن بڑھیا آصف الدّولہ کے پاس آئی آصف الدولہ نے سونے کی سِل اس کو دیتے ہوئے ے کہا: لو تمہاری پتھر کی سِل سونے کی بن گئ ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… احیاء العلوم، کتاب الفقر والزھد، بیان احوال السائلین، الجزء الرابع، ص۲۶۵