Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
182 - 191
 یااللہ! عَزَّوَجَلَّ  اس کی بیماری کو طویل کردے
	ایک شخص بڑا کنجوس تھا مالدار ہونے  کے  باوجود کبھی صدقہ و خیرات نہ کرتا، نہ کسی سائل  کو کچھ دیتا، یہ شخص جب بیمار پڑا اور مرض شدت اختیار کرگیا تو اس نے سوچا شاید میرا آخری وقت آپہنچا اس نے کئی  دیگ پلاؤ پکوایا اور غربا و مساکین کو تقسیم کردیا، غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں  اور بیواؤں  کو نئے کپڑے سِلوا کردیئے ے اور روزانہ روپے پیسے سوالیوں  کو بانٹنے لگا،حضرت حاتم اصم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے لوگوں  نے ذکر کیا کہ فلاں  شخص جو بخل میں   مشہور ہے سخت بیمار ہے اور اب وہ دل کھول کر صدقہ وخیرات کررہا ہے، آپ اس  کے  حق میں   دعافرمائیں ،حاتم اصم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ہاتھ اٹھا کر بارگاہِ ربّ العزت میں   یوں  دعا کی:  یااللہ  ! تو اس شخص کی بیماری کو طویل کردے تاکہ بیماری اس  کے  گناہوں  کا کفارہ ہواورغرباومساکین کوبھی  فا ئدہ     پہنچے۔ (تذکرۃ اولیاء) 
سخیاں  ز اموال بر مے خورند	بخیلاں  غم سیم و زر مے خورند
								   (شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ) 
شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا ارشاد
	حضرت مصلح الدین سعدی  رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے کسی نے پوچھا: سخاوت کیا ہے؟ فرمایا: سخاوت یہ ہے کہ اپنی ضرورت سے جو کچھ زاءد ہو سب خیرات کردیا جائے،پھر اس نے پوچھا: بُخل کیا ہے؟ فرمایا نہ مال کی زکوۃ ادا کی جائے اور نہ مستحقین کو کچھ دیا جائے،پوچھا: ایثار کیا ہے؟ فرمایا: جس چیز کی خود کو اشد ضرورت ہو اسے دوسروں کی