Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
181 - 191
پھیل گئ لیکن خلیفہ نے یہ ظاہر نہ ہونے دیا کہ ہم کو اس کی بدبو سے ایذا پہنچی ہے بلکہ اس نے غریب دیہاتی کا دل رکھنے کی خاطر ایک گلاس بھروا کر چکھا اور بہت تعریف بھی کی کہ: نہایت لطیف و نفیس پانی ہے، پھر حکم کیا یہ گھڑا خالی کر کے  اس پانی کو خاص اہتمام  کے  ساتھ فلاں  مقام پر رکھا جائے،جب گھڑا خالی کردیا گیا تو فرمایا: اس دیہاتی کا گھڑا اشرفیوں  سے بھر کر دے دیا جائے، اس  کے  بعد خلیفہ نے اس دیہاتی کو رخصت کرتے  ہوئے ے خدام سے کہا: اس کو دریائے دجلہ  کے  راستے سے لے جانا تاکہ اس کی تکان دور ہو اور اسے فرحت بھی حاصل ہو،دیہاتی دجلہ کو دیکھ کر شرم سے پانی پانی ہوگیا کہ اللہ  !اللہ  یہ خلیفہ کیسا کریم ہے اس کو میرے گدلے پانی کی کیا ضرورت تھی جس  کے  پاس اس قدر لطیف و شیریں  پانی کا دریا بہتا ہو۔ (مثنوی روم) 
اب فرحت حاصل  ہوئی ہے
	حضرت خواجہ سلیمان تونسوی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں   ایک شخص نے بارہ ہزار روپے بطور ِ نذر پیش کیے اس رقم کو تقسیم کرنے میں   ایک رات کا توقف ہوگیادوسرے روز آپ نے ساری رقم غربا و مساکین کو تقسیم کردی پھر فرمایا: رات کو مجھے اس مردار کی موجودگی  کے  باعث نیند نہیں   آئی  جب میں   نے اسے دور کردیا تو اب فرحت حاصل  ہوئی۔ (تذکرہ خواجہ سلیمان تونسوی)
ناگہاں  بانگے برآمد خواجہ مرد	خوردہ خورد و ماندہ ماند و دادہ بُرد