Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
180 - 191
کریم النفس خلیفہ
	ایک دیہاتی نہایت غریب تھا، اس  کے  بال بچے فاقوں  پر فاقے کرتے نڈھال ہوچکے  تھے اللہ کی قدرت دیکھئے کہ اس علاقہ میں   قحط واقع ہوگیا کنویں  اور تالاب خشک ہوگئے ہاں  تک کہ لوگ پانی کو بھی ترس گئے، ایک دن اس کی بیوی نے کہا: سُنا ہے کہ خلیفۂ بغداد بڑا ہی کریم النفس ہے، تم اس  کے  پاس جاؤ شاید ہمارا فقروفاقہ دور ہوجائے، وہ بولا: خلیفہ  کے  پاس جانے  کے  لیے کوئی  تحفہ و نذرانہ بھی تو ہونا چاہیے خالی ہاتھ کیونکر چلا جاؤں ، میرے پاس اس  کے  لاءق ہدیہ کہاں  ہے؟ بیوی نے کہا: ہمارے فلاں  گڑھے میں   جو صاف و شفاف کچھ پانی جمع ہے ایسا پانی خلیفہ نے کہاں  دیکھا ہوگا، تم اس میں   سے ایک گھڑا پانی لے جاؤ،بیوی کی یہ رائے مرد کی سمجھ میں   آگئگھڑا بھر کر لے چلا، عورت نے مصلّٰی بچھایا اور اس پانی  کے  صحیح و سلامت پہنچ جانے کی دعائیں مانگنے لگی، مولانا روم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ   فرماتے ہیں   :
زن مصلّٰے باز کردہ از نیاز	رَبِّ سَلم ورد کردہ در نماز
										(مثنوی معنوی)
	اس کا شوہر بھی رَبِّ سلِّم کا ورد کرتا گیا کہ یا الہٰی! یہ گھڑا صحیح و سلامت منزل مقصود تک پہنچادے، بغداد پہنچا خلیفہ  کے  دربار میں   حاضر ہوا، خلیفہ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ دیہاتی نے بتایا: ھٰذَا مَاء الْجَنَّۃِ (یہ جنت کا پانی ہے) ایسا نفیس پانی کسی نے نہ پیا ہوگا،خلیفہ نے گھڑا کھولنے کا حکم دیا چونکہ عرصہ سے بند تھا کھولتے ہی دربار میں   بدبو
1…