ملکہ جہاں کی سخاوت
سلطان علاؤ الدین حسن کا نگوئی بہمن کی وفات کے بعد ۷۵۹ہجری میں اس کا بیٹا سلطان محمد شاہ تخت نشین ہوا اس کی والدہ ملکہ جہاں نے جب حج کا ارادہ کیا تو سلطان نے مُنادی کرادی کہ جو شخص مرد ہو یا عورت ملکہ جہاں کے ہمراہ سعادتِ حج حاصل کرنا چاہتا ہو اس کے تمام اخراجات سلطان ادا کرے گا، کئی ہزار مردو زن حج کے ارادے سے جمع ہوگئے ملکہ جہاں ان سب کے ہمراہ روانہ ہوئیں عظیم الشان قافلہ بندرگاہ پہنچ کر بحری جہازوں میں سوار ہوا ایک مہینہ اور سات دن بحری سفر طے کر کے بخیرو عافیت جدہ پہنچ گیا اورپھر مکہ مکرمہ پہنچ کر سب نے فریضۂ حج ادا کیا ، ملکہ جہاں نے عرب کے فقرا و مساکین کو اس قدر خیرات تقسیم کی کہ سب مالا مال ہوگئے، ملکہ جہاں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ایک سال قیام کیا اس عرصہ میں آپ نے اعلان کرایاکہ جو غریب والدین غربت کی وجہ سے اپنی بیٹیوں یا بیٹوں کی شادی نہیں کرسکتے وہ ہمیں اطلاع دیں ہم ان سب کی شادیوں کے تمام اخراجات پورے کریں گے، لوگ درخواستیں لے کر آنے لگے ملکہ جہاں ہر ایک درخواست گزار سے بخندہ پیشانی دریافت کرتیں ، خرچ کے لیے کتنا روپیہ درکار ہے؟ جتنا کوئی بتاتا اس سے زیادہ عنایت فرمادیتیں چنانچہ ایک سال کے عرصہ میں چار ہزار لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں اپنے خرچ سے کرادیں سارے ملک میں ملکہ جہاں کی فیاضی اور سخاوت کی دُھوم مچ گئ ۔(تاریخ فرشتہ)