Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
17 - 191
	رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: بندے کا رزق اس کو اس طرح ڈھونڈتا ہے جس طرح اس کی موت اس کو ڈھونڈتی ہے۔(1) (ابونعیم حلیہ)
	مقصد یہ ہے کہ موت کو تم تلاش کرو یا نہ کرو بہرحال تمہیں   پہنچے گی، یونہی تم رزق کو تلاش کرو یا نہ کرو ضرور پہنچے گا ہاں  رزق کی تلاش سنت ہے، موت کی تلاش ممنوع مگر ہیں    دونوں  یقینی۔(2)(مرآۃ شرح مشکوٰۃ)
	رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: اگر تم اللہ پر کما حقہ توکل کرو تو تم کو ویسے ہی رزق عطا کرے جیسے کہ پرندوں  کو دیتا ہے کہ وہ صبح کو بھو کے  جاتے ہیں    اور شام کو شکم سیر لوٹتے ہیں   ۔(3)(ترمذی ، ابن ماجہ ، مشکوٰۃ)
	حق تو کل یہ ہے کہ فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہی کو جانے ، بعض نے فرمایا کہ کسب کرنا اور نتیجہ اللہ پر چھوڑنا حق توکل ہے، جسم کو کام میں   لگائے دل کو اللہ سے وابستہ رکھے تجربہ سے ثابت ہے کہ اللہ پر توکل کرنے والے بھو کے  نہیں   مرتے۔(4)
										(مرآۃ شرح مشکوٰۃ)
رزق نہ رکھیں  ساتھ میں   پنچھی اور دَرویش                   جن کا رب پر آسرا ان کو رزق ہمیش(5)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حلیۃ الاولیاء لابی نعیم ، ۶/۸۸، الحدیث: ۷۹۰۸
2…مرآۃ المناجیح، توکل اور صبر کا بیان، ۷/۱۲۶
3…ابن ماجہ،کتاب الزھد، باب التوکل والیقین،۴/ ۴۵۲،الحدیث:۴۱۶۴ و مشکاۃ، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر،الفصل الثانی، ۲/۲۶۴، الحدیث:۵۲۹۹
4…مرآۃ المناجیح ، توکل اور صبر کا بیان، ۷/۱۱۳
5…مرآۃ المناجیح، توکل اور صبر کا بیان، ۷/۱۱۳