حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریاملتانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی شانِ سخاوت
حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے کچھ مرید جو موتی اور جواہرات کی تجارت کرتے تھے جہاز میں سفر کررہے تھے کہ یکایک جہاز کو طوفان نے گھیر لیا، جب جہاز غرق ہونے لگا تو انہوں نے حضرت شیخ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے روحانی مدد طلب کی اور جہاز بفضلہ تعالیٰ طوفان سے بچ کر صحیح و سلامت عدن کے ساحل تک پہنچ گیا، تاجروں نے اپنے مال کا تیسرا حصہ نکال کر بطور نذر حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی جانب سے خواجہ فخر الدین گیلانی کو اپنا نماءندہ بنا کر ان کے ذریعہ ستّر لاکھ روپیہ کی مالیت کے موتی اور جواہرات حضرت کی خدمت میں بھیجدیئے ے۔
خواجہ فخر الدین گیلانی حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے ے اور مال و متاع پیش کر کے قبول کرلینے کی التجا ء کی،آپ نے اس نذرانہ کو قبول فرمالیا مگر تین دن کے اندر اندر یہ سارا مال فقرا و مساکین کوتقسیم کر کے ختم کردیا، خواجہ فخر الدین گیلانی یہ دیکھ کر بے حد متأثر ہوئے ے اور انہوں نے اپنا تمام مال فقرا و مساکین کوتقسیم کردیا اور تارک الدنیا ہو کر حضرت شیخ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوگئے، پانچ برس حضرت شیخ کی خدمت کرتے گزر گئ ے تو آپ سے اجازت لے کر فریضۂ حج ادا کرنے مکہ مکرمہ کو روانہ ہوئے ے لیکن راستہ ہی میں ان کاانتقال ہوگیا۔