دیتا ہوں اس سے کام نکالو، وہ خوش ہوکر چلا گیا۔
رات کو اس شخص کے دوست نے خواب میں اُس صاحب ِ قبر کو دیکھا، اس سخی مرد نے کہا: جو کچھ تم نے میری قبر پر کہا تھا میں نے سُن لیا تھا چونکہ اہلِ قبور کو جواب دینے کی اجازت نہیں اس لیے اب میں تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ تو صبح میرے گھر جا میرے لڑکوں سے کہناکہ چولہے کے پاس پانچ سو اشرفیاں دفن ہیں انہیں نکال کر اس ضرورت مند شخص کو دے دیں ۔
صبح وہ اس کے گھر گیا اس کے لڑکوں سے اس کا پیغام کہہ سنُایا انہوں نے چولہے کے قریب زمین کھودی تو واقعی پانچ سو اشرفیاں برآمد ہوئیں اس نے ان سے کہا: یہ اشرفیاں ضروری نہیں کہ سب کی سب دے دو یہ تمہاری ملکیت ہیں جتنی چاہو دو، نہ چاہو تو کچھ بھی نہ دو، تمہیں اختیار ہے،لڑ کے بولے: سبحان اللہ ! ہمارا مرحوم باپ تو مرنے کے بعد بھی سخاوت کرے اور ہم بخل سے کام لیں ، انہوں نے سب اشرفیاں اس کے حوالے کردیں اور کہا: آپ مہربانی کر کے اس حاجت مند شخص کو پہنچا دیں ، جب وہ اس شخص کے پاس پہنچا تو ا س شخص نے ان میں سے ایک اشرفی لے کر تڑوائی آدھی رقم سے اس کا قرض ادا کیا اور بولا: بس اب مجھے ان کی ضرورت باقی نہیں رہی مجھے قرض ادا کرنے کے لیے صرف آدھی اشرفی ہی درکارتھی یہ سب اشرفیاں لے جاؤ اور محتاجوں کو بانٹ دو،حضرت خرگوشی فرماتے ہیں : میں فیصلہ نہیں کرسکا کہ اِن سب میں کون سب سے زیادہ سخی ٹھہرا۔(1)(کیمیائے سعادت)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کیمیائے سعادت، فضل سخاوت، ۲/۶۴۳