بلکہ سب تمہارا ہے
ایک مرتبہ کسی مرید نے پانچ سو اشرفیاں حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں پیش کیں اس وقت ایک قلندر فقیر حضرت کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے کہا: اس میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہے حضرت نے مسکرا کر فرمایا:کچھ نہیں بلکہ سب تمہارا ہے اور سب اشرفیاں قلندر فقیر کو عنایت کردیں ۔
یہ مُردہ مال کیوں رکھ چھوڑا ہے؟
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی رحلت کا وقت قریب آیا تو فرمایا: کیا نماز کا وقت ہوگیا؟حاضرین نے عرض کی:ہاں ، فرمایا: کیا میں نے نماز پڑھ لی؟ عرض کی گئ : جی ہاں ! فرمایا: میں دوبارہ پھر پڑھتا ہوں ۔ہر نماز کو اسی طرح تکرار سے پڑھتے اور فرماتے: ہم جارہے ہیں ، ہم جارہے ہیں ، پھر خادم کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: اگر گھر میں کوئی سامان رہ گیا تو کل قیامت کے دن اس کا حساب دینا پڑے گا،خادم نے سب کچھ لوگوں میں تقسیم کردیا البتہ وہ غلہ رہنے دیا جو درویشوں کے لیے تھا، آپ نے خادم سے فرمایا: یہ مردہ مال کیوں رکھ چھوڑا اس کو بھی نکال پھینکو اور گھر میں جھاڑو دے دو،خادم نے غلّہ خانہ کے دروازے کھولدیئے ے اور سب غلہ تقسیم کردیا، خدام نے عرض کی: حضور ! آپ کے بعد ہم غریبوں کا کیا حال ہوگا؟ فرمایا: گھبرانے کی ضرورت نہیں ہمارے روضہ سے تمہیں اتنا مل جایا کرے گا جو تمہاری ضروریات کے لیے کافی ہوگا، خدام نے عرض کی: ہم میں سے آمدنی کو کون تقسیم کرے گا؟ فرمایا: تقسیم کرنے کا وہ حقدار