آپ کے اہل وعیال کی زندگی نہایت تنگ دستی میں بسر ہوتی تھی مگر اس کے باوجود سخاوت کا یہ عالم تھا کہ ہزاروں روپے جو نذرانہ میں آتے اسی وقت غربا و مساکین اور دیگر مستحقین کو تقسیم کرادیتے اور اپنے اہل و عیال کے لیے کچھ بھی نہ رکھتے جس دن کوئی چیز نہ ہوتی خدّام سے فرماتے: لوگوں کو ٹھنڈا پانی ہی پلادو تاکہ کوئی دن بخشش و عطا سے خالی نہ جائے۔
شانِ سخاوت
خواجہ نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا مَطْبَخ ہمیشہ گرم رہتا، کئی ہزار فقرا و مساکین روزانہ کھانا کھاتے خانقاہ میں جو کچھ آتا شام تک تقسیم ہوجاتا، حکم تھا کہ کوئی چیز بچا کر نہ رکھی جائے، جب خانقاہ میں زیادہ مال و اسباب جمع ہوجاتا آپ رونے لگتے اور فرماتے سب کچھ اسی وقت تقسیم کردیا جائے، جمعہ کے روز تمام خانقاہ کو خالی کرنے کا حکم فرماتے، جب خادم آکر اطلاع دیتا کہ اب کوئی چیز باقی نہیں رہی جھاڑو تک دے دی گئ ہے تو آپ اظہارِ اطمینان فرماتے ا س کے بعد جامع مسجد تشریف لے جاتے اور اطمینان کے ساتھ نماز ادا فرماتے۔ ایک بار ایک سوداگر لٹ گیا وہ حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے صاحبزادے کی سفارش لے کر حضرت محبوب الٰہی کی خدمت میں پہنچا، آپ نے خادم خاص کو فرمایا: صبح سے چاشت تک جو کچھ آئے اس سوداگر کو دے دیا جائے، چاشت تک بارہ ہزار اشرفیاں آئیں یہ تمام اشرفیاں سوداگر کو دے دی گئیں ۔ (سیرالاولیاء)