Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
172 - 191
 صاف انکار فرمادیا،تلاش بسیار  کے  بعد ایک ایسا مکان مل گیا جو نہایت خستہ و شکستہ تھا اس مکان میں   ایک بہت ہی غریب بوڑھا اپنی بوڑھی بیوی اور ایک بچی  کے  ساتھ رہتا تھا، غوث اعظم نے اس بڑے میاں  سے فرمایا: کیا تم اجازت دیتے ہو کہ ہم آج کی رات تمہارے مکان میں   بسر کرلیں ،غریب بوڑھا یہ سن کر اس قدر خوش ہوا کہ قریب تھا کہ شادی مرگ ہوجائے، بڑی لجاجت سے بولا:حضور ! اس سے بڑھ کر ہماری اور کیا خوش بختی ہوسکتی ہے کہ آپ ہم غریبوں  کی بوسیدہ جھونپڑی کو زینت بخش کر ہمیں   سرفراز فرمائیں ، حضرت غوث اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اپنے ہمراہیوں  سمیت اس بوڑھے  کے  مکان میں   رونق افروز ہوگئے،موضع حلّہ اور مضافات سے لوگ جوق در جوق نذر و نیاز لے کر حاضر ہونے لگے، اگلے دن روانگی  کے  وقت تک سینکڑوں  مویشی جمع ہوچکے  تھے اور نقد وجنس  کے  انبار لگ چکے  تھے، حضور غوث اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے یہ تمام مویشی اور نقد و جنس  کے  انبار مالک مکان بڑے میاں  کو عطا فرماددیئے ے اور اپنے ہمراہیوں  سمیت سفر پر روانہ ہوگئے، اللہ تعالیٰ نے اس غریب بوڑھے کو آپ  کے  قدموں  کی برکت سے اس قدر دولت عطا فرمادی کہ وہ اس علاقہ کا سب سے بڑا مالدار امیر بن گیا۔ 	(اخبارالاخیار)	
سخائے غوث اعظم قُدِّسَ سِرُّہ
	حضور غوث اعظم قُدِّسَ سِرُّہ نے ایک درویش کو دیکھا کہ وہ شکستہ خاطر ایک گوشہ میں   مغموم بیٹھا ہے، فرمایا: کس حال میں   ہو اور کیا حال ہے؟درویش نے عرض کی: میں   دریا  کے  کنارے گیا تھا، ملاح کو دینے  کے  لیے میرے پاس کچھ نہیں   تھا کہ کشتی میں   بیٹھ