Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
171 - 191
نے اسے نام لے کر پکارا، فرمایا: جس راہ پر تم چلے آرہے تھے اسی راہ پر چلے آؤ، وہ ٹھہر گیا جب ہم اس  کے  قریب پہنچے تو دیکھا کہ وہ شخص شرمایا ہوا اور گھبرایا ہوا تھا، امام اعظم نے فرمایا: تم نے اپنی راہ کیوں  بدلی؟ بولا:آپ کی دس ہزار کی رقم میرے ذمّے قرض ہے ادا کرنے میں   بہت تاخیر ہوچکی ہے ابھی تک ادا کرنے کی استطاعت نہیں   اس لیے آپ کو دیکھ کر ندامت  ہوئی اور میں   نے راستہ بدل لیا۔
	امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا: سُبْحٰن اللہ! بس اتنی سی بات  کے  لیے تم نے مجھ سے چھپنے کی کوشش کی وَ قَدْ وَہَبْتُ مِنِّی کُلَّہٗ (میں   نے اپنی طرف سے قرضہ کی تمام رقم تجھے بخش دی) پھر فرمایا: بھائی  ! مجھے دیکھ کر تیرے دل میں   ندامت اور دہشت کی جو کیفیت پیدا  ہوئی، خدا  کے  لیے معاف کردے۔(معجم)
عطائے غوثِ اعظم قُدِّسَ سِرُّہ 
	ایک مرتبہ حضور غوث اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہحج  کے  لیے بغداد شریف سے روانہ  ہوئے ے، بہت سے فقرا اور درویش بھی آپ  کے  ہمراہ تھے، یہ بابرکت قافلہ جب موضع حلّہ پہنچا تو آپ نے فرمایا: ہم اس بستی میں   قیام کرنا چاہتے ہیں    قیام  کے  لیے کسی ایسے غریب کا مکان تلاش کرو جو تمام مکانوں  سے زیادہ خستہ و شکستہ ہو، بستی  کے  امیروں  اور رئیسوں  میں   سے ہر ایک یہی چاہتاتھا کہ حضور میرے محل اور بنگلہ میں   قیام فرمائیں ، امرا و وزرا منت سماجت کرنے لگے کہ حضور ہم آپ  کے  خادم ہیں    ہمارے محلات اور عظیم الشان بنگلے آپ  کے  لیے حاضر ہیں    لیکن غوث اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے