Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
170 - 191
اور تمام منافع ہر سال ان پر تقسیم کر کے  ان  کے  گھروں  میں   پہنچادیا کرتے تھے، کوئی  شخص ملنے آتا تو اس کا حال پوچھتے حاجت مند ہوتا تو اس کی حاجت پوری کردیا کرتے تھے، آپ کا معمول تھا کہ گھر والوں   کے  لیے کوئی  چیز خرید کرتے تو علما و مشائخ  کے  لیے بھی اسی قدر خرید کر کے  ان  کے  گھروں میں   پہنچادیتے۔
	ایک دفعہ کچھ لوگ ملنے آئے ان میں   ایک شخص ظاہری شکل و صورت اور لباس سے مفلوک الحال دکھائی  دیا،جب لوگ رخصت ہو کر چلنے لگے تو آپ نے اس مفلوک الحال سے فرمایا: ذرا ٹھہرجاؤ، پھر آپ نے اپنی جا نماز کی طرف اشارہ کیا کہ اس کو اٹھانا، اس نے دیکھا کہ ایک ہزار روپیہ کی تھیلی رکھی ہے، اس نے عرض کی: حضور!میں   دولت مند ہوں ، مجھے اس کی احتیاج نہیں  ؟آ پ نے فرمایا: تو صورت ایسی بنانی چاہیے کہ دیکھنے والوں کو شبہ نہ ہو۔ (معجم)
سخیاں  ز اموال بَر مے خورند	بخیلاں  غمِ سیم و زر مے خورند
	سخی اپنے مال کاپھل کھاتے ہیں   ، بخیل سونے اور چاندی کا غم کھاتے ہیں   
					                    (حضرت سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
دس ہزار روپیہ کا قرضہ معاف
	حضرت شقیق بَلْخی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں   : ایک دن میں   امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  کے  ساتھ جارہا تھا کہ دور سے ایک آدمی آتا ہوا دکھائی  دیا، اس نے جونہی اِمام اعظم کو دیکھا فوراً ایک گلی میں   مُڑگیا۔ میں   نے اس کی طرف کوئی  توجہ نہ کی مگر امام اعظم