بیٹھ گیا،دل میں کئی بار آیا کہ حضرت امام سے عرضِ مُدَّعا کرے لیکن شرم و حیا کے باعث حرفِ مُدَّعا زبان پر نہ لاسکا، کچھ دیر بعد خاموشی سے اُٹھ کر چلا، امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نور فراست سے سمجھ گئے کہ یہ کوئی حاجت مند ہے لیکن شرافت کی وجہ سے اپنا مدعا بیان نہیں کرسکاہے، امام اعظم مجلس سے اُٹھے راز داری کے ساتھ اس کے پیچھے پیچھے چلتے گئے، وہ تاجر اپنے گھرمیں داخل ہوگیا تو امام اعظم واپس آگئے۔
رات ہوئی تو امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے پانچ سو درہم کی تھیلی اٹھائی اور تاجر کے مکان پر پہنچ کر دستک دی جب وہ باہر نکلا تو امام اعظم نے تھیلی اس کی دہلیز پر رکھ دی اور یہ کہتے ہوئے روانہ ہوئے ے: دیکھو! یہ تمہارے دروازے پر تھیلی پڑی ہے اسے اٹھالو یہ تمہارے لیے ہے،تاجر نے تھیلی تو اٹھالی مگر چونکہ امام اعظم اپنا چہرہ مبارک کپڑے سے چھپائے ہوئے تھے پہچان نہ سکا کہ یہ کون ہیں ، گھر میں داخل ہو کر تھیلی کو کھولا تو اس میں ایک پرچہ لکھا ہوا دیکھا: ھٰذاالْمِقْدَارُجاء بِہ اَبُوْحَنِیْفَۃَ اِلَیْکَ مِنْ وَجْہِ حَلَالٍ فَلْیَفْرُغْ بَالَکیہ رقم ابوحنیفہ تیرے پاس لایا جو حلال طریقہ سے حاصل کی گئ ہے قلب کی فراغت سے اسے استعمال کرو۔(مناقب موفق)
امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی شانِ سخاوت
امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا تجارتی کاروبار اس قدر وسیع تھا کہ لاکھوں کا کاروبار ہوتا تھاتجارت اور کسبِ مال سے ان کا مقصود زیادہ تر عوام کو فا ئدہ پہچانا تھا آپ نے غربا مساکین، یتیموں ، بیواؤں اورعلمااور طالب علموں کے وظیفے مقرر فرما رکھے تھے