Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
16 - 191
	رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: انسان  کے  دل  کے  ہر جنگل میں   ایک شاخ ہے(انسان کا دل ایک ہے مگر اس  کے  لیے فکریں ، غم بہت ہیں   ، روٹی کپڑا، مکان، بیماریوں  میں   علاج، آپس کی مخالفتیں ، عداوتیں  وغیرہ وغیرہ فکروں  ، غموں   کے  جنگل ہیں    جن میں   سے ہر ایک کا تعلق انسان  کے  دل سے ہے)تو جو اپنے دل کو ان تمام شاخوں   کے  پیچھے ڈال دے (اس طرح کہ اپنے دل میں   ہر فکر و غم کو جگہ دے دے، آخرت کی فکروں  کو فراموش کردے، دنیا کی ہر فکر  کے  پیچھے بھاگا پھرے)اللہ پر واہ نہیں   کرے گاکہ کسی جنگل میں   اسے ہلاک کردے، (ایسے دنیا دار کی طرف اللہ تعالیٰ توجۂ کرم نہیں   کرے گا،اسے فکروں  اور غموں  سے آزاد نہ کرے گا، مرتے وقت تک وہ انہی میں   گرفتار رہے گا، آخر اسی حال میں   مرجائے گا، عام دنیاداروں ، مال داروں  کا یہی حال دیکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ ایسی زندگی سے محفوظ رکھے، آمین) اور جو اللہ پر توکل (بھروسہ) کرے اللہ اسے گھاٹیوں  سے بچائے گا۔ (ابن ماجہ ، مشکوٰۃ) (1)
	ایسے متوکل مومن پر رنج و غم اوّلاً تو آئیں گے نہیں   اگر آئیں گے تو پانی کی طرح بہہ جائیں گے اگر کچھ ٹھہر بھی گئ ے تو متوکل کا دل ان کا اثر نہیں   لیتا اس کا دل اللہ کی یاد میں   مخمور رہتا ہے۔
تیرا درد میرا درماں  ترا غم مری خوشی ہے	مجھے درد دینے والے تیری بندہ پروری ہے
اُسے فتنہائے محشر نہ جگاسکیں  گے ہرگز	تیرا نام لیتے لیتے جسے نیند آگئہے
								          	(مرآۃ شرح مشکوٰۃ)(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب التوکل والیقین ،۴/۴۵۳، الحدیث: ۴۱۶۶ ومشکاۃ، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر، الفصل الثالث، ۲/۲۶۶، الحدیث: ۵۳۰۹
2…مرآۃ المناجیح، توکل اور صبر کا بیان، ۷/۱۲۴