1…
عَلَیْہ کے سامنے لا کرکہا: اس پر میرے کچھ روپے قرض ہیں اور یہ ادا نہیں کرتا،امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے عبداللہ سے حقیقت دریافت کی اس نے کہا: میں نے اس کا کچھ نہیں دینا ہے،امام اعظم نے بَدَوی سے پوچھا: آخر کتنے درہموں پر جھگڑا ہے؟ اس نے کہا: چالیس درہم، متعجب ہو کر فرمایا: زمانہ سے حمیت اٹھ گئ ، اتنے سے معاملہ پر یہ جھگڑے، یہ فرما کر چالیس درہم آپ نے اپنے پاس سے بَدَوی کو دےدیئے ۔(معجم)
تمہارے دروازے پر تھیلی پڑی ہے اسے اٹھالو!
کوفہ میں ایک خوشحال تاجر کا کاروبار حوادثِ زمانہ کی نذر ہوگیا اور وہ پائی پائی کا محتاج ہوگیا خویش واقارب نے آنکھیں پھیرلیں اور احباب اس سے ملنے سے احتراز کرنے لگے بقول شاعر:
بوقت تنگ دستی آشنا بیگانہ مے گردد صراحی چوں شود خالی جدا پیمانہ مے گردد
ایک دن گلی میں ککڑیاں بیچنے والا آیا محلے کے بچے ککڑیاں خریدنے اور کھانے لگے اس کی چھوٹی بچی یہ دیکھ کر دوڑتی ہوئی اپنی ماں کے پاس آئی بولی: امی! ککڑی لے دیجئے، اس کی ماں کے پاس پیسے نہ تھے، آنکھوں میں آنسو بھر لائی ، باپ دیکھ کر تڑپ اٹھا: وَقَصَدَ مَجْلِسَ الْبَرَکَۃِ وَھُوَ مَجْلِسُ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ اس نے مجلس برکت میں جانے کا ارادہ کیا، امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی مجلس اسی نام سے مشہور تھی، اس نے سوچا کہ امام اعظم سے کچھ رقم بطورِ قرض حاصل کرے، حضرت امام اعظم کی مجلس میں بہت سے لوگ حاضر تھے یہ تاجر مجلس میں پہنچا، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہہ کر ایک طرف
1…