Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
167 - 191
ارشادِ شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ
از زر و سیم راحتے برساں 	خویشتن ہم تمتعے برگیر
و آنگہ ایں  خانہ از تو خواہد ماند	خشتے از سیم و خشتے از زر گیر
	سونے اور چاندی (جو مال تجھ کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے اس) سے دوسروں  کو راحت (آساءش) پہنچا اور اس سے خود بھی  فا ئدہ     اٹھا، یہ گھر آخر کار تجھے چھوڑنا ہی ہے خواہ تو نے اس کو سونے چاندی کی اینٹوں  سے تعمیر کرلیا ہو۔(گلستان)
آج بچے  کے  لیے جوتا خریدرہے ہیں   
	حضرت یوسف بن خالد السمتی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں   : ایک حاجی نے امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  کی خدمت میں   ایک ہزار پاپوش بطورِ تحفہ بھیجے، ایک یا دو دن گزرے ہوں  گے کہ میں   نے دیکھا، آپ اپنے صاحبزادے  کے  لیے بازار سے جُوتا خرید رہے ہیں   ، میں   نے تعجب سے پوچھا: ابھی تو کل آپ  کے  پاس ایک ہزار پاپوش تحفۃً آئے تھے آج بچے  کے  لیے جوتا خرید رہے ہیں   ،فرمایا: میرا قاعدہ اِ ن تحفوں   کے   متعلق یہی ہے کہ اپنے شاگردوں  اور متوسلین میں   تقسیم کردیتا ہوں ۔ (معجم)
اتنے سے معاملہ پریہ جھگڑے
	امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ایک بار جب کہ آپ سفر حج میں   تھے عبداللہ سہمی بھی آپ  کے  ساتھ تھا کسی منزل میں   ایک بَدَوی نے اسے پکڑا اور امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ