Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
166 - 191
گنتی کی چند روٹیاں  تھیں ، ان سے سب شکم سیر نہ ہوسکتے تھے،آپ نے روٹیوں  کو توڑ کرٹکڑے بنائے پھر دستر خوان بچھایا اور اس پر ٹکڑے بکھیرددیئے ے، مہمانوں  سے فرمایا: تم کھانا کھاؤ میں   چراغ کی بتی درست کرتا ہوں  سب ہاتھ منہ چلاتے رہے گویا کہ کھارہے ہیں   ، جب چراغ جلاکر لایا گیا تو دیکھا کہ روٹیوں   کے  سب ٹکڑے جوں   کے  توں  موجود ہیں    اس خیال سے کسی نے کچھ نہ کھایاتھا کہ دوسرے کھالیں ۔(1)  (احیاء العلوم)
چھٹی ہیر جنجالوں 
	حضرت سیّد صیدعلی شاہ صاحب سوہاوی (کشمیری) رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا لنگر ہمیشہ جاری رہتا تھا، سینکڑوں  مہمان اور غربا و مساکین روزانہ آپ  کے  دستر خوان پر شکم سیر ہوتے تھے نیز طلبہ  کے  لیے قیام و طعام کا مستقل انتظام تھا جو تحائف بصورت نقدوجنس آتے مستحقین کوتقسیم فرمادیا کرتے تھے، انتقال سے چند یوم پہلے بہ یک وقت کئی  ہزار کی رقم آگئ اپ نے اپنے داماد سائیں ولی شاہ صاحب کو ہدایت فرمائی کہ بیوگان، یتامٰی اور مساکین کو بُلاکر یہ تمام رقم تقسیم کردو اور پھر مجھے اطلاع دو چنانچہ ایک ہی دن میں   یہ ساری رقم تقسیم کردی گئ ، سائیں ولی شاہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے جب حضرت سید صید علی شاہ صاحب رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں   عرض کی: قبلہ ! حسب الحکم تمام روپے تقسیم کیے جاچکے  ہیں   ، تو آپ نے فرمایا: چھُٹی ہیرجنجالوں ، یعنی ہیر جنجال سے چھوٹ گئ ، پھر فرمایا: شکر ہے کہ اب مجھے اللہ  تعالیٰ یہ نہیں   فرمایاے گا کہ صید علی متاع دنیا چھوڑ آیا ہے۔ 
									         (مشائخ چشت)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء العلوم، کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان الایثار وفضلہ، ۳/۳۱۸