اتنی سی بات کے لیے چندہ کیوں کرتے ہو
ابراہیم بن عتبہ چار ہزارروپیہ کے مقروض تھے اور ادا نہ کرسکتے تھے اس ندامت کی وجہ سے انہوں نے لوگوں سے ملنا جلنا ترک کردیاتھا، ان کے ایک دوست نے چندہ کر کے ان کا قرض ادا کرنا چاہا لوگوں نے بقدر حیثیت چندہ دیا امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے پاس گئ ے تو آپ نے دریافت فرمایا: کل قرضہ کس قدر ہے؟ اس نے کہا: چار ہزار روپیہ ، فرمایا: اتنی سی بات کے لیے چندہ کیوں کرتے ہو امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اسی وقت چار ہزار روپے ادا کرددیئے ے۔(1)
خیر میں اسراف نہیں
حضرت حسن بن سہل رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ پریشان حالی میں بھی سائل کو کبھی خالی نہ جانے دیتے، جو کچھ آپ کے پاس موجود ہوتا غربا و مساکین کو تقسیم کردیا کرتے تھے، ایک دفعہ حضرت ثعلب رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ آپ سے ملنے آئے تو آپ سے کہا: لَیْسَ فِیْ السَّرْفِ خَیْرٌ(اسراف میں بھلائی نہیں ہے)آپ نے جواب دیا: بَلْ لَیْسَ فِی الْخَیْرِ سَرْفٌ (بلکہ خیر میں اسراف ہوتا ہی نہیں ہے)۔(2) (کتاب الاذکیاء)
عثمان کو اب کچھ نقصان نہیں ہوسکتا
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المناقب للکردری، الباب الرابع عشر فی ذکر سماحتہ وبذلہ۔۔۔الخ ،۱/۲۶۱
2…کتاب الاذکیاء، الباب العاشر فی سیاق المنقول من ذلک عن الوزراء، ص۶۸